سابقہ سویت یونین کئی برسوں تک خلائی سفر کی دوڑ میں امریکہ سے آگے رہا، لیکن یہ دوڑ بالا آخر امریکہ نے 20 جولائی 1969 کو اس وقت جیت لی، جب نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر اپنا پہلا قدم رکھا۔ اس منظر کو دنیا بھر میں کروڑں افراد نے براہ راست دیکھا۔ گو اس واقعے کو 40 برس بیت چکے ہیں، اور اس عرصے میں خلائی سفر کی ٹکنالوجی نے بے انتہا ترقی کر لی ہے، لیکن آج بھی 1969 کی مون لینڈنگ کو سائنس اور ٹکنالوجی میں امریکی مہارت کی اعلی مثال تصورکیا جاتا ہے۔
چاندپر اترنے والے دنیا کے پہلے خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے کہا تھا کہ ایک انسان کا یہ چھوٹا سا قدم پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہے۔
انہی الفاظ کے ساتھ امریکہ نے روس کو خلائی سفر کی دس برس لمبی دوڑ میں ایک اہم موڑ پر شکست دی۔ اگر امریکی پہلے خلاباز نہیں، تو چاند پر قدم رکھنے والےپہلے انسان ضرور ٹھہرے۔
12 سال قبل سویت یونین نے سپوتنک نامی سیٹلائٹ کو زمین کے مدار میں بھیجا۔ جس کےکچھ عرصے بعد ہی روسی خلا باز یوری گاگرین زمین کے مدار میں خلائی جہاز کا سفر کرنے والے پہلے خلاباز قرار پائے۔ اس کے نتیجے میں امریکی صدر جان ایف کینڈی نے وعدہ کیا چاند پر پہلاقدم رکھنے کی دوڑ امریکی ہی جیتیں گے اوروہ یہ کام 10 برس کے اندر سرانجام دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو یہ ارادہ کر لینا چاہیے کہ اگلے دس برس کے اندر اندر ہم انسان کو چاند پر اتاریں گے اور اسےخیریت سے زمین واپس لے کر آئیں گے۔
اپالو 11 کا تاریخی مشن اس خطاب کےصرف 8 برس میں ہی مکمل ہو گیا۔ 16 جولائی 1969میں خلاباز نیل آرمسٹرانگ ، بز ایلڈرن اور مائیکل کالنز سفر کی تیاری میں اپنے خلائی جہاز کے کمانڈ ماڈیول میں سوار ہوئے۔ راکٹ کی پرواز دیکھنے کے لیے تقریبا 10 لاکھ افراد کیپ کناورل کے قریب جمع ہوئے۔
خلائی جہاز کو چاند کے مدار تک پہنچنے میں چار دن لگے۔ لیکن جب خلابازوں نے ایگل نامی چاند گاڑی کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی، تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ چاند کی ایک بہت ناہموار سطح کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ نیل آرمسٹرانگ نے چاند گاڑی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا اور راکٹ کا ایندھن ختم ہونے سے محض کچھ سیکند پہلے ہی جہاز کو ایک بہتر جگہ پر اتارا۔
آرمسٹرانگ نے چاند گاڑی سے چھ گھنٹوں کے بعد اترتے ہوئے چاند کا منظر کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔ یہ امریکہ کا کوئی صحرا معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کے مناظر سے یہ کچھ مختلف ہے، لیکن بہت خوبصورت ہے۔
صدر نکسن نے خلابازوں کو مبارک باد پیش کی۔
چاند پر اترنے کے 20 گھنٹوں بعد آرمسٹرانگ اور ایلڈرن چاند گاڑی لے کر خلائی جہاز میں واپس پہنچے اور زمین کی طرف اپنی واپسی کا آغاز کیا۔
لوگوں نے انہیں بہت جوش و خروش سے خوش آمدید کیا۔
یوں خلائی دور کا آغاز ہوا۔ اور انسان نے چاند تک پہنچنے کے بعد خلا کے دور دراز خطوں کے سفر کے خواب دیکھنے شروع کیے۔



