امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اگر کمانڈریہ جان جاتے کہ اس مہینے فورٹ ہُڈ میں گولیاں چلانے والے ملزم میں عسکریت پسندی کے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں تو وہ ضروری کارروائی کرتے اور اِس مقصد کے لیے ضابطے پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن کم از کم ایک ممتاز سابق سینیئر فوجی افسر کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں موجودہ ہدایات کافی نہیں ہیں۔
میجر ندال ملک حسن نے اپنے 12 ساتھی فوجیوں اور ایک سویلین کو ہلاک کرنے کا راستہ کیوں اختیار کیا اس بارے میں بہت سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ فوجی اور سویلین عہدے داروں کو میجر حسن کے سیاسی رجحانات کے بارے میں کیا کچھ معلوم تھا اور انھوں نے اس معلومات کو کِس طرح استعمال کیا۔ امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر ایڈمرل مائیک ملن Mike Mullen)) نے اس بارے میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’وقت گزرنے کے ساتھ فوج کی قیادت کو جب اس قسم کی باتوں کا علم ہوتا ہے میری توقع یہ ہے کہ یہ چیزیں اعلیٰ افسروں سے نیچے کی کمان تک پہنچا دی جاتی ہیں‘‘۔
بظاہر میجر حسن کے کیس میں جو مسلمان ہیں ایسا نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران انٹرنیٹ ویب سائٹس اور ایک عسکریت پسند امام کے ساتھ ای میل کے تبادلوں کے ذریعے ان میں انتہا پسندی کے رجحانات پیدا ہو گئے تھے۔ اب تک جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق حسن کے سیاسی خیالات کا سب سے زیادہ واضح اظہار ایک کانفرنس میں ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کا اپنے مسلمان سپاہیوں سے یہ کہنا کہ وہ مسلمان دشمنوں کے خلاف جنگ کریں خطرناک بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان فوجیوں میں انتہا پسندی کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اور وہ امریکہ کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
پینٹا گان کے ترجمان برائن وٹمین ( (Bryan Whitman کہتے ہیں کہ ’’محکمۂ دفاع کا ایک ضابطہ موجود ہے جس میں کمانڈروں کو اس قسم کے حالات سے نمٹنے کا اختیار دیا گیا ہے‘‘۔
اس ضابطے میں کہا گیا ہے کہ فوجی عملے کو ایسی تنظیموں میں شرکت کو مسترد کردینا چاہیئے جو برتری پر مبنی خیالات کا پرچار کرتی ہیں، نسل، عقیدے، رنگ، جنس، مذہب یا قومی تشخص کی بنیاد پر غیر قانونی امتیازی سلوک کی کوشش کرتی ہیں، طاقت یا تشدد کے استعمال کا پرچار کرتی ہیں یا افراد کو ان کے شہری حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
لیکن یہ ریگولیشن اور اس کے بعد کمانڈروں کے لیے ایک پمفلٹ نسلی امتیاز کو سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا۔ امریکی فوج کے سابق وائس چیف آف اسٹاف ریٹائرڈ جنرل جیک کین ((Jack Keane نے جمعرات کے روز سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ یہ ریگولیشن کافی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے شبہ ہے کہ جب ہم یہ تفتیش مکمل کر لیں گے تو ہم اِس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمیں انتہا پسند اسلام پرستوں اور جہادی عناصر کے مخصوص طرزِ عمل اور رویوں کی روشنی میں اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی‘‘۔
جنرل کین کہتے ہیں کہ کمانڈروں کو سپاہیوں میں اسلامی عسکریت پسندی کو پہچاننے اور اس سے انتظامی اور قانونی طریقوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص رہنمائی ملنی چاہیئے۔ لیکن انھوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امریکی فوج میں کئی ہزار مسلمان فوجیوں کو نشانہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے اور ہماری فوج میں رواداری، اور تنوع کی اقدار بڑی اہم ہیں۔
Council on American-Islamic Relations کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر Ibrahim Hooper اس خیال سے متفق ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ اگر کسی کے نظریات انتہا پسندانہ ہیں چاہے ان کا تعلق مذہب سے ہو یا سیاست سے تو یہ بات سب کو نظرآنی چاہیئے اور اس قسم کی رپورٹس فوجی حکام تک پہنچنی چاہیئں تا کہ وہ مناسب کارروائی کر سکیں۔
لیکن ابراہیم ہوپر کہتے ہیں کہ ریگولیشن میں نظرِ ثانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف مہم چلانا نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ کوئی ڈاڑھی رکھنے یا بَیس ((base پر نماز پڑھنے کی اجازت مانگے یا بَیس کے باہر اسلامی لباس پہنے اور فوراً ہی اس پر انتہا پسند ہونے کا لیبل لگا دیا جائے۔ فوج کو اچھی طرح سمجھنا چاہیئے کہ انتہا پسندی یا خطرناک رویہ کسے کہتے ہیں۔
بعض مبصرین نے یہ قیاس آرائی کی ہے کہ ممکن ہے کہ فوجی افسروں نے میجر حسن کے بظاہر عسکریت پسندی پر مبنی رویے کے بارے میں اس ڈر سے کارروائی نہ کی ہو کہ وہ سوچتے ہوں کہ اس طرح ان کے آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ تقریر کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔ جمعرات کے روز وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے موجودہ ضابطوں کے مکمل جائزے کا حکم دیا ہے۔ پینٹا گان کی پالیسیوں اور ضابطوں کے جائزے کی ابتدائی رپورٹ جنوری کے شروع میں پیش کی جائے گی جب کہ زیادہ مفصل اور مکمل رپورٹ کی تیاری میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔


