سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ اعلی ترین ذہانت اور دیوانگی کے درمیان ایک انتہائی باریک لکیر کا فاصلہ ہوتا ہے۔
ماہرین نفسیات کو پتہ چلا ہے کہ تخلیقی صلاحیتں رکھنے والے افراد ایک خاص قسم کا جین موجود ہوتا ہے اور یہی جین ڈیپریشن اور دماغی امراض کا بھی باعث بنتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس دریافت سے اس چیز کی وضاحت کی جاسکتی ہے کہ نیدر لینڈ کے مصوروینی سینٹ وین گو اور ناول نگار او ر شاعر سیلویا پلاتھ جیسے فطین افراد تخریبی طرز عمل کے مرتکب کیوں ہوتے تھے۔
ذہانت سے منسلک یہ مخصوص جین دماغی صلاحتوں کے اضافے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کا تعلق دماغی امراض سے بھی ہوتا ہے جیسا کہ شیزو فرینیا وغیرہ۔
ہنگری کی سمیلویس یونیورسٹی کے ماہرین نے اپنے مطالعے کے لیے ایسے رضاکاروں کا چناؤ کیا جن کے اپنے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔
رضاکاروں کی تخلیقی صلاحتیوں کی پیمائش کے لیے ان سے کئی سلسلوں میں ایسے سوال کیے گئے جو عام نوعیت سے ہٹ کرتھے۔ مثلا فرض کریں کہ اگر بادلوں کے ساتھ رسیاں باندھ دی جائیں جو زمین پر لٹک رہی ہوں تو کیا ہوگا۔
ان کے جوابات کو تخلیقی صلاحیتوں اور لچک پذیری کی بنیاد پر پرکھ کر رضاکاروں کی درجہ بندی کی گئی۔
رضاکاروں کو ان کی عمر بھر کی تخلیقی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ایک سوال نامہ مکمل کرنے کے لیے کہا گیا۔ اور پھر ماہرین نے ان کے خون کے نمونے حاصل کیے۔
رپورٹ کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ تخلیقی صلاحیتوں اور ایک مخصوص جین این آرجی ون کے درمیان ایک واضح تعلق موجود ہے۔
جن رضاکاروں کا یہ جین جنتا قوی تھا، ان کا اسکور اتنا ہی زیادہ اور ان کی تخلیقات بھی زیادہ دوسروں کی نسبت سے زیادہ مؤثر تھیں۔
مطالعاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر زبولکس کری کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ دماغی امراض سے منسلک جین کا تعلق کچھ سود مند امورسے بھی ظاہر ہوا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ایسے جین، جن کا شدید ذہنی امراض سے ڈھیلاڈھالا تعلق ہوتا ہے ،وہ کئی صحت مند لوگوں میں بھی موجود ہوتے ہیں ، جو ان میں تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔
(سائیکالوجیکل سائنس سے ماخوذ)

