اقوامِ متحدہ اُس تاریخی معاہدے کی 20 ویں سالگرہ منا رہی ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس موقعے پر اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ یا یونی سیف نے جمعرات کے روز جو رپورٹ جاری کی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 1989ء میں بچوں کے حقوق کے معاہدے کی منظوری کے بعد سے اب تک دو کے سوا دنیا کے باقی تمام ملکوں نے اس کی توثیق کردی ہے۔صرف صومالیہ اور امریکہ نے ابھی تک اس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔

یونی سیف نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں دنیا میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی سالانہ شرح اموات میں 28 فیصد کمی آئى ہے۔اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ 70 سے زیادہ ملکوں نے بچوں سے محنت مشقت اور فوج میں بچوں کی بھرتی کے خلاف قوانین منظور کرنے کے لیے اس معاہدے سے فائدہ اُٹھایا ہے۔

تاہم یونی سیف نے کہا ہے کہ اس پیش رفت کے باوجود دنیا بھر ایسے بچوں کی تعداد تقرباً 20 کروڑ ہے جو دائمی طور پر غذائیت کی کم میں مبتلا ہیں اور مزید کروڑوں بچّے تشدّد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یونی سیف کی ڈائریکٹر این وَینی من نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما اور اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوسن رائس نے امریکہ کی جانب سے معاہدے کی توثیق کے لیے شدید خواہش کا اظہار کیا ہے۔