امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہ اُن پانچ آدمیوں پر نیو یارک میں  ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا جن پر2001 میں دہشت گردوں کے  11  ستمبر کے حملوں کا الزام ہے۔
کلنٹن نے اتوار کے روز امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہولڈر کے فیصلے پر کوئى اعتراض نہیں ہے۔  انہوں نے مزید  کہا کہ اُن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اُن حملوں کے منصوبہ سازوں نے امریکہ کے ساتھ جو کچھ کیا، اُس کی انہیں مکمل سزا ملے۔
ہولڈر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ 11 ستمبر کے حملوں کا منصوبہ  بنانے کے دعویٰ  دار خالد شیخ محمد اور اُن چار افراد پر، جن پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کا الزام ہے، نیو یارک کی اُس عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو اُس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے جہاں وہ بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہوئى تھیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وہ سازش میں شریک ہر ملزم کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ری پبلکن ارکانِ کانگریس اور دوسرے مخالفین کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتانامو، کیوبا کے فوجی جیل کے قیدیوں کو مقدمے کے لیے جب کسی امریکی عدالت میں لایا جائے گا تو انہیں وہ حقوق حاصل ہو جائیں گے جن کے وہ مستحق نہیں ہیں۔
ہولڈر کا کہنا ہے کہ مقدمہ چلانے کا فیصلہ خلیج گوانتا نامو کے جیل کیمپ کو بند کردینے کی ایک بڑی کارروائى کے حصّہ ہے۔ 
اسی دوران، اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو میں قید نظر بندوں کو ہوسکتا ہے کہ شمالی ریاست اِلی نوائےکے ایک تقریباً خالی جیل میں منتقل کردیا جائے، جہاں وہ دوسرے وفاقی قیدیوں کے ساتھ بند رہیں گے۔
عہدے داروں نے ہفتے کے دن دیر گئے کہا ہے کہ شکاگو سے 220 کلو میٹر مغرب  میں واقع تھامسن جیل، جو کہ شدیدحفاظتی انتظامات کا حامل قید خانہ ہے، وفاقی حکومت کے خیال میں گوانتانامو کا بہترین متبادل ہے۔  اور حکومت اٰس کے قیدیوں کو اس ایک ہزار 600 کوٹھڑیوں کے جیل میں منتقل کرسکتی ہے۔
عہدے داروں نے یہ نہیں بتایا کہ خلیج گوانتانامو سے کب یا کتنے قیدیوں کو اِلی نوائے منتقل کیا جائے گا۔
ریاست کے گورنر پال کوئین اس سلسلے میں ایک نیوز کانفرنس سےخطاب کرنے والے ہیں۔   مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے  جیل کے استعمال سے روز گار کے وہ مواقع پیدا ہوں  گے، جن کی اشد ضرورت ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن مارک کرک سمیت، جوکہ سینٹ میں صدر اوباما کی سابق نشست کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں، ریاست الی نوائےکے بہت سے ری پبلکن اس تجویز کے خلاف ہیں۔  کرک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ملزموں کو وہاں منتقل کرنے سے اُن کی ریاست  جہادی عناصر کے لیے دہشت گردی کی سازشوں اور رنگروٹوں کی بھرتی  کا مرکز بن  جائے گی۔