نیوجرسی میں جمعرات کے روز  بڑے پیمانے پرکرپشن کے سلسلے  میں ہونے والی گرفتاریوں میں سب سے دلچسپ مقدمہ لیوی لزہاک روزن بام کا ہے جن پر زندہ عطیہ دہندگان سے گردوں کی غیر قانونی خرید کے سودے کرنے کا الزام ہے۔ اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس مقدمے کے انکشافات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے جسم سے کتنا کماسکتے ہیں۔

نیوزویک نے کچھ انسانی اعضا کی قیمتوں کے بارے میں بتایا ہے  جو زندہ عطیہ دہند گان حاصل کرسکتے ہیں۔

گردے:
انسان کے دو گردے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک پر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔اخبار کے مطابق گردے کی طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے اور امریکہ میں ایک گردہ آسانی سے 30 ہزار ڈالر میں فروخت ہوجاتا ہے۔ جب کہ اس مقدمے کاملزم روزن بام ایک لاکھ 60 ہزار فی گردہ بیچ رہا تھا۔

جگر:
انسان کا صرف ایک جگر ہوتا ہے۔ لیکن اگر  اس میں سے ایک ٹکڑا کاٹ لیا جائےتو وہ دوبارہ  مکمل ہوجاتا ہے۔ اس لیے جگر کا ایک ٹکڑا باآسانی فروخت کیا جاسکتا ہے۔ گردے کے بعد سب سے زیادہ مانگ جگر کی ہے۔ امریکہ میں جگر کا ایک ٹکڑا تقریباً ایک لاکھ ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔

پھیپھڑا:
ہر پھیپڑے کے پانچ حصے ہوتے ہیں۔ آپ اس میں سے ایک حصہ الگ بھی کرلیں تو اس سے  پھیپھڑے کی کارکردگی پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔  لیکن وہ حصہ کسی ضرورت مند کو دے دیا جائے جسے پھیپھڑے کے کسی دوسرے حصے کی ضرورت ہوتو یہ ضرورت مند کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوگا۔

آنکھیں:
ایک آنکھ مکمل طورپر کسی دوسرے کو نہیں لگائی جاسکتی۔ لیکن آنکھ کے کچھ  حصے مثلاً عدسہ، قرنیہ وغیرہ کسی دوسرے ضرورت مند کو لگائے  جاسکتے ہیں۔  بعض ماہر بشریات اور انسانی حقوق کے کارکنوں  نے عطیہ دینے والے زندہ افراد کی جانب سے  آنکھ کے عدسوں اور قرنیہ کی فروخت کے بارے میں رپورٹیں دی ہیں۔ 

آنتیں:
آنت کا عطیہ دینا بھی ممکن ہے لیکن اس میں بہت زیادہ خطرہ بھی موجود ہے اور اس کے عطیے کی ضرورت شاذو نادر ہی پڑتی ہے۔ اس لیے بیشتر واقعات میں یہ عطیات زندہ انسانوں کی بجائے مرنے والوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ آنت کے عطیات زیادہ تر چھوٹے بچوں کے لیے درکار ہوتے ہیں جنہیں کسی ایسی بیماری کی صورت میں ان کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی کبھار ہی سامنے آتی ہیں۔

لبلبہ:
جسم کا ایک اور حصہ جس کا عطیہ دیا جاسکتا ہے ، وہ ہے لبلبہ۔  لبلبے کی پیوند کاری  عام طورپر کسی مریض کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ مثلاً ذیابیطس کے مریض کی زندگی سے انسولین کے  مسلسل  ٹیکوں کی ضرورت ختم کرنے یا کم کرنے کے لیے۔یہ عطیہ بھی عام طورپر مرنے والے افراد سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیکن پیوندکاری کی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ لبلبے کے عطیے دینے والے زندہ افراد  کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

جلد:
ایک عرصے سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کسی زندہ انسان کی جلد کا عطیہ لینا ناقابل عمل ہے۔ لیکن وزن کو نمایاں طور کم کرنے والے افراد کے پاس اپنی جلد کی ضرورت سے زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے جسے وہ عطیے کے طور پر دے سکتے ہیں۔ عام طور پر یہ عطیہ ایسے افراد کودیا جاتا ہے جن کی جلد جل جائے اور انہیں پلاسٹک سرجری کی ضرورت ہو۔آنکھ کے حصوں کے ناجائز کاروبار کی طرح اس بارے میں بھی ایک عرصے سے افوائیں گردش کررہی ہیں کہ انسانی جلد کا بھی ناجائز کاروبار جاری ہے۔

ہڈی کا گودا:
اگرکوئی شخص اپنی ہڈی  کا گودا عطیے کے طورپر دے دے تو وہ دوبارہ بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ مخصوص قسم کے کینسر کے مریضوں میں کیموتھراپی کے باعث یہ گودا ختم ہوجاتا ہے اور انہیں صحت یاب ہونے کے لیے گودے کے عطیے کی ضرورت پڑتی ہے۔

خون:
خون کا عطیہ غالباً سب سے  آسان، سب سے محفوظ اور سب سے عام قسم کا عطیہ ہے۔

بلیک مارکیٹ میں صحت مند گردوں کی قیمت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس جگہ فروخت کیے جائیں گے۔ 2005 میں انسانی اعضا کے بارے میں ایک نگران ادارے نے صحت مند انسانی گردوں کے بلیک مارکیٹ میں یہ قیمتیں بتائیں تھیں۔

امریکہ: 30 ہزار ڈالر
اسرائیل: 10 تا 20 ہزار ڈالر
پرو: 10 ہزار ڈالر
ترکی: ساڑھے سات ہزار ڈالر
برازیل: چھ ہزار ڈالر
رومانیہ: 2700 ڈالر
بھارت: 1500 ڈالر
فلپائن: 1500 ڈالر
عراق(جنگ سے قبل): ساڑھے سات سو تا ایک ہزار ڈالر