ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔یہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں کام کرنے والے ان فلاحی اداروں کے کام کا طریقہ کاربھی بدل دیا ہے جو انسانی حقوق کی پامالی کی صورتِ حال پر نظر رکھتے ہیں۔مصنوعی سیاروں کی مدد سے زمینی بد صورتیوں کی تصویر کشی کرنے والی ٹیکنالوجی جہاں کئی پوشیدہ حقائق سے پردے اٹھا رہی ہے وہاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کام آسان بھی بنا رہی ہے۔

2001ءمیں امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے آپریشن انڈیورنگ فریڈم نامی کارروائی کا آغاز کیا۔ افغانستان کے شمالی اتحاد نے اس لڑائی میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ گروپ فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ایسی اجتماعی قبر کا سراغ ملا جس میں دو ہزار طالبان عسکریت پسندوں کو دفن کیا گیا تھا۔خیال ہے کہ یہ افراد شمالی اتحاد کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ادارے کی رکن سسانا سرکن کہتی ہیں کہ تحقیق کی گئی تو ان کے بدترین خدشات درست ثابت ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے جو تصاویر موصول ہوئیں،ان میں واضح طور پر ایک ٹرک ایسے مقام پر نظر آیا جہاں بہت بڑی جگہ کی کھدائی کی گئی تھی۔ ہمارے لیے یہ کوئی حیران کن منظرتو نہیں تھا، لیکن اس نے ہمارے خدشات سچے ثابت کر دیے۔ اب ہمارے پاس واضح ثبوت موجود تھا کہ کسی نے زمین سے لاشیں نکالنے کے لیے ایک بڑی مشین کھڑی کی ہے۔

بالکل اسی طرح دار فر میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کا پتا چلانا ترقی یافتہ دنیا کے لیے آسان نہیں کیونکہ دور دراز دیہات میں سوڈانی حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کے باعث رسائی مشکل ہوتی ہے۔لیکن انسانی حقوق کے ایک ادارے ’آئیز آن دارفر‘کی کوششوں کی وجہ سے اب دارفر کے مشکلات میں گھرے سینکڑوں دیہات کی صورتِ حال پر نظر رکھناممکن ہو گیا ہے۔سائنسدان سوزن وولفن برجر کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر کی مدد سے ان علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملی جن پر سرکاری ملیشیاؤں نے حملے کیے تھے۔
سوزن کہتی ہیں کہ اتنے بڑے علاقے میں جلنے کے نشانات ہیں کہ آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا،جہاں مکانوں کی چار دیواری کو آگ لگائی گئی ہے وہاں راکھ کے نشانات موجود ہیں،جن سے پتا چلتا ہے کہ یہاں پہلے عمارت یا دیواریں تھیں۔
سیٹلائٹ ٹیکنالوجی انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو بے نقاب کرنے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے لیکن اس میں کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔یہ مہنگی بھی ہو سکتی ہے۔دو دراز کے دیہی علاقوں کی یا تو سیٹلائٹ نقشوں میں نشاندہی نہیں کی گئی ہوتی یا حکومت ہی چھوٹے گاؤں اور قصبوں کی نشان دہی کی اجازت نہیں دیتی۔

امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار امیرکن پروگریس کا کہنا ہے کہ نقشوں کے ڈیٹا بیس کو، جو دنیا بھر کی عوام کے بڑے طبقے کو میسر ہے، اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ کہ امریکی حکومت جب نئے مقامات کے نقشے حاصل کرتی ہے تو انسانی حقوق کی تنظیموں کے علم میں بھی لایا جانا چاہئیے تاکہ وہ بھی رعایتی نرخوں پر ان نقشوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ایک تصویر کی کاپی خریدنے پر چند سو ڈالر جبکہ ایک نیا سیٹلائٹ امیج یاتصویر خریدنے پر دو ہزار ڈالرخرچ آتا ہے۔

سسانا کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف ایک طریقہ ہے۔۔آخر میں تو یہ ہم انسانوں،حکومتوں اور شہریوں کو سوچنا ہے کہ انسانیت پر ظلم کرنے والوں کا ہاتھ کیسے روکا جائے۔