امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھنے  کے  طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی فوری طور پرامیگریشن سے متعلق  کچھ اصلاحات متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لئے  کانگریس سے غیر قانونی تارکین وطن کو حراستی مراکز میں بہتر سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ 
پیٹر یونے نے  اس وقت اپنے دروازے کے باہر  پولیس اہلکاروں کو کھڑے پایا جب سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مجھے دھکا دے کر اندر داخل ہو گئے اور مجھے حرکت نہ کرنے کا حکم دیا۔
پولیس نے یونے کی بیوی کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لے لیا۔ یونے کو اعتراف ہے کہ ان کی بیوی  جونگ پارک  مستقل شہریت کا اجازت نامہ نہ  ملنے کی وجہ سے امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہی تھیں۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جونگ پارک کو2003 ءمیں جنس فروشی کے الزام میں  سزا دی گئی تھی۔ اور ایک  امیگریشن جج نے انہیں امریکہ سے نکل جانے کا حکم دیا  تھا۔
پیٹر یونے چوبیس گھنٹے تک پولیس سٹیشنز میں اپنی بیوی کو تلاش کرنے  کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ آخر ایک وکیل کی مدد سے انہیں معلوم ہوا کہ ان کی بیوی ان کے گھر سے چار گھنٹے کی مسافت پر پورٹس ماؤتھ ورجینیا کے حراستی مرکز میں بندہیں۔ وائس آف امریکہ نے جیل میں پیٹر یونے کی بیوی سے فون پر بات کی اور پوچھا کہ جیل میں ایک مہینہ انہوں نے کیسے گزارا ہے۔
جونگ پارک کہتی ہیں کہ انہیں دن میں صرف ایک بار کھانا کھانے جیل سے باہر جانے کی اجازت ہے اور یہ کہ انہیں جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
یونے کہتے ہیں کہ میری بیوی کوئی  جرائم پیشہ عورت نہیں،  اس کے پاس صرف گرین کارڈ نہیں تھا۔ اگر آپ اس کے اپنا ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد یہاں رکنے کو مجرمانہ سرگرمی سمجھتے ہیں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
امیگریشن کے وکلا کے مطابق یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ شریف لوگوں کو عادی مجرموں کے ساتھ جیل میں بند کیا گیا ہو جہاں ان کے اہلخانہ انہیں تلاش بھی نہ کر سکیں۔ مخکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری جینیٹ  نیپولی ٹینو اس حوالے سے امریکی کانگریس سے کچھ اصلاحات پر غور کی خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے قیدیوں کے حالات بہتر بنانے کے لئے کام کرنا ہی ہوگا۔
سیکرٹری نیپو لیٹانو کے مطابق گزشتہ سال امریکہ میں چار لاکھ تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اور اس وقت بھی 32 ہزار افراد جیل میں ہیں۔  ایک تجویزجس پر غور جاری ہے وہ  غیر قانونی تارکین وطن کو الیکٹرانک کڑے پہنا کر ان کی نگرانی کرنے کی ہے۔ اور دوسری تجویز کمیونٹی یا گرجا گھروں کو ان تارکین وطن کی ذمہ داری سونپنے کی ہے۔ مگر یہ تجاویز کیسے کارآمد ہونگی ؟
جان مارٹن کا کہنا ہے کہ آپ کے پاس اچھی ساکھ والی فلاحی تنظیمیں ہیں جو آگے بڑھ کر اس شخص کی ذمہ داری لے سکتی ہیں۔   لیکن  اگر تارک وطن شرائط کی پابندی نہ کرے تو اسے سزا دی جائے۔
امریکہ میں امیگریشن کی اصلاحات کے کام کرنے والی فیڈریشن فیئر  کے ایک عہدے دار ڈین سٹین کو اس سے اتفاق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہنے والوں کوانسانی حقوق کے نام پر  اعلی درجے کے ہوٹلوں میں  رکھنا چاہیں گے جو کہ تارکین وطن کے لئے یہاں رہنے کا ایک اور بہانہ بن جائے گا۔
انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ ایسے متبادل راستے امیگرنٹس کو عدالت میں پیشی کی تاریخ سے پہلے غائب ہونے میں مدد دیں گے۔ جب کہ جونگ پارک کا کہنا ہے کہ میں کہیں بھاگ کر نہیں جاوں گی کیونکہ میرا خاندان یہاں ہے، میں کوئی قاتل یا چور تو نہیں ہوں۔
2005  ء میں اسی جیل میں چند ہفتوں کی قید کے بعد ایک خاتون قیدی سینڈرا کینلی کی موت واقع ہو گئی تھی۔ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کے حامی تارکین وطن کی امریکہ بدری کو ہی صحیح حل قرار دیتے ہیں۔
ڈین سٹین کا کہنا کہ لوگ اس ملک میں مہمان بن کر آتے ہیں۔ اگر وہ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی یہاں سے نہیں جاتے تو انہیں ڈیپورٹ کیا جا سکتا ہے کسی کو بھی لمبے عرصے تک قید میں رکھنے کی ضرورت نہیں، انہیں ملک چھوڑنے کی آزادی ہو۔
لیکن ایسے لوگ بھی ہیں، جن کی خواہش ہے کہ ایسا کبھی نہ ہو۔  ان میں سے ایک ہیں جونگ پارک کی بیٹی سوبن کا کہنا ہے کہ جب سے میری والدہ گرفتار ہوئی ہیں، کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، گھر بالکل خالی لگ رہا ہے۔
سکول کے ہوم ورک سے خود کو بہلاتی جونگ پارک کی بیٹی کو امید ہے کہ کم از کم اگلے ہفتے ان کی جیل کی دیواروں کے پار  اپنی ماں سے ملاقات ہوہی  جائے گی۔ چاہے بیس منٹ کے لئے ہی سہی۔