تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر حکمراں عوام سے قربانیاں مانگتے ہیں تواُن کے بقول سب سے پہلے اپنی رشوت ستانی ترک کردیں۔

ایک بیان میں عمران خان نے ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کا حوالہ دیا جس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین سالوں کے دوران پاکستان میں کرپشن 400گنا بڑھی ہے۔اُن کے الفاظ میں ‘یہ کرپشن آپ کے اوپر مزید ٹیکس کی صورت میں پڑتی ہے۔ جب حکومت چوری کرتی ہے تو آپ کے اوپر بوجھ پڑتاہے۔’

عمران خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ کسان، مزدور اور تنخواہ دارطبقے کے ساتھ مل کر جدوجہد کرے گی، جب تک، اُن کے بقول عوام کے اوپر ٹیکسوں کی بارش ختم نہیں ہوتی۔

اُنھوں نے قرآنِ حکیم کا حوالہ دیا جس میں صاف طور پر آیا ہے کہ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتی جب تک قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

عمران خان نے الزام لگایا کہ حکمراں عوام کے اوپر ٹیکس کی بارش کر رہے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں ‘عوام ہر قسم کی مشکلات برداشت کر سکتی ہے، ہر قسم کی قربانی دے سکتی ہے۔ لیکن جب یک طرفہ قربانیاں طلب کی جائیں، حکمراں اپنے خرچے کم نہ کریں؟’

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ صدر کا ایک دِن کا خرچہ دس لاکھ روپیہ ہے، جب کہ وزیرِ اعظم کا سالانہ بیرونِ ملک دوروں کا خرچہ 120کروڑ روپیہ ہے،ارکانِ اسمبلی کا ترقیاتی فنڈ سات ارب روپیہ سالانہ، جب کہ صدرکے دوروں پر 36کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔

اُن کے الفاظ میں جب حکمران ایسے رہیں جس طرح یہاں تیل کی نہریں بہتی ہیں، تب پاکستان کے عوام یہ کہتے ہیں کہ ہم کیوں قربانیاں دیں؟

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے عدالتِ اعظمیٰ کے چیف جسٹس کو داد دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کاربن ٹیکس ملک میں آلودگی ختم کرنے کے لیے نہیں لگایا گیا بلکہ بجٹ میں موجود 500ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے جو اُن کے بقول عوام کے اوپر لگایا جانے والا ٹیکس ہے۔