بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ خشک سالی کے سبب بھارت مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز کے پاس وافر مقدار میں غذائی اجناس موجودہیں اور ضرورت پڑنے پر سخت قدم اُٹھانے، مارکیٹ میں مداخلت کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہیں کیاجائے گا۔

اُنھوں نے مون سون کی صورتِ حال پر تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بارش کی کمی کے نتیجے میں زرعی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، اور 60لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر دھان کی بُوائی نہیں ہو سکی۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ حکومت کسانوں اور عوام کی سہولت کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے 141اضلاع کو قحط زدہ قرار دیا گیاہے، لہٰذا دیہی علاقوں میں روزگار فراہم کرنے کی سکیم کو پوری طرح لاگو کرنا اور اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔

من موہن سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مرکز ریاستوں کو اضافی مدد فراہم کرے گا۔ وزیرِ اعظم نے لازمی اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ بارش کی قلت سے مزید منفی اثر پڑ سکتا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے