بھارتی وزیرِ مالیات پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ملک کے 161یعنی ایک چوتھائی اضلاع خشک سالی سے دوچار ہیں اور گذشتہ سال کے مقابلے میں امسال فصلوں کی بُوائی 20فی صد کم ہوئی ہے۔

اُنھوں نے دہلی میں سالانہ کانفرنس کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مون سون کی صورتِ حال غیر یقینی ہے اور تاخیر سے اور کم بارشوں کے سبب ملک کے مختلف علاقوں میں زرعی سرگرمیاںمتاثرہوئی ہیں۔

تاہم  اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت خشک سالی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور ایک ہنگامی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ بھارت صورتِ حال کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے پنجاب اور ہریانہ کے کسان زمینی پانی کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں جِس کی وجہ سے وہاں بُوائی میں زیادہ تاخیر نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ ملک میں کُل 604اضلاع ہیں اور یہاں زرعی سرگرمیوں کا انحصار مون سون پر رہتا ہے۔

تراسی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب جون کے مہینے میں اتنی کم بارش ہوئی۔ محکمہٴ موسمیات کے مطابق یکم جون سے لے کر اب تک کی بارش معمول کی سالانہ بارشوں سے ایک چوتھائی سے بھی کم ہوئی ہے۔