سابق  بھارتی وزیرِ اعظم اندھرا گاندھی کو ہفتے کے روز اُن کی پچیسویں برسی پر ملک  بھر میں پُرجوش عقیدت  کا نذرانہ پیش کیا گیا اور کانگریس پارٹی کی جانب سے اُن کی یاد میں متعدد پروگراموں کا انعقاد ہوا۔

واضح رہے کہ31اکتوبر 1984ء کو اُن کے دو سکھ گارڈوں نے گولی مارکراُنھیں قتل کردیا تھا۔ اندھرا گاندھی نے 15سال تک حکومت کی تھی اور اُنھیں خاتونِ آہن کہا جاتا تھا۔

اندھرا گاندھی کو اُن کے والد اور ملک کےپہلے  وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے بھی کامیاب اور طاقتور وزیرِ اعظم مانا جاتا ہے ۔  اُن کے دورِ حکومت میں ملک میں مختلف شعبوں میں زبردست اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے اپنی انتھک کوششوں سے بھارت کو ایکیسویں صدی میں داخل ہونے کے لائق بنایا تھا،  حالانکہ اُن کے کامیاب اور روشن ریکارڈ میں ایمرجنسی کے نفاذ کا تاریک باب بھی موجود ہے۔  تاہم،  اُن کی خوبیوں اور کامیابیوں نے اِس عیب کو ڈھانپ لیا ہے۔

نائب صدر،  وزیرِ اعظم ،  کانگریس صدر اور دیگر رہنماؤں نے اُن کی  قبر پر جاکر اُن کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔

اندھرا گاندھی کی پچیسویں برسی پر کانگریس کی جانب سے اُن کی زندگی پر ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ پورے ملک میں قومی یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں،  عطیہٴ خون کے کیمپ لگائے گئے اور اُن کی زندگی پر ایک فلم بھی دکھائی گئی۔

اِس موقعے پر،  الہ آباد میں اپنے  آبائی مکان آنند بھون میں ایک یادگار تقریب کے انعقاد کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں بھی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔