بھارت اور نیپال کے درمیان سیکریٹری داخلہ سطح کے مذاکرات حوالگی کے معاہدے پر کسی پیش رفت کے بغیر ہفتے کے دِن کاٹھمنڈو میں اختتام پذیر ہوگئے۔

بھارت گذشتہ کئی برسوں سے حوالگی کے معاہدے کے لیے نیپال کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مذاکرات کے اختتام پر بھارتی سیکریٹری داخلہ نے اِس بات سے انکار کیا  کہ دونوں فریقین کے درمیان اِس معاہدے پر کسی قسم کے اختلافات ہیں۔

اُنھوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کےمسودے  کو کئی مرحلوں سے گزرنا ہے اور دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے ذریعے اِس پر دستخط کیے جانے کے قبل اعلیٰ سطحی سیاسی تبادلہٴ خیال کی ضرورت ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ نیپال اور بھارت  انسانوں اور جعلی کرنسی کی سمگلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے سرحد پر نگرانی بڑھانے پر متفق ہوگئے ہیں۔  اِس کے علاوہ   دونوں ہر تین ماہ کے بعد سلامتی کے امور پر مقامی سطح کے اجلاس  بلانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

دونوں فریقین اِس بات پر  بھی متفق ہوگئے ہیں کہ سلامتی کے امور،  سرحد کے نظم و ضبط اور امن و امان کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

تاہم نیپالی سیکریٹری داخلہ نے اپنے  بھارتی ہم منصب کے اِس الزام کی تردید کی کہ نیپال کے ماؤنواز بھارت میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔