جمعرات کو دہلی میں جب بھارتی لوک سبھا کے  سرمائی اجلاس کا آغاز ہوا تو حکومت کی طرف سے گنے کے دام مقرر کرنے کے معاملے پر بحث کے دوران ایوان میں سخت الفاظ کی لے دے ہوئی اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

اِس سے پہلے وفاقی دارالحکومت  کے رام لیلہ میدا ن میں  ہزاروں کاشت کاروں نے دھرنا دیا اور جنتر منتر یادگار تک ریلی نکالی۔  مظاہرین نے حکومت  سے گنہ  قیمت پالیسی کی واپسی کا مطالبہ کیا  اور تب تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

جوں ہی پارلیمان کے اجلاس کا  آغاز ہوا،     گنے کی قیمت کے معاملے پر اپوزیشن نے زبردست ہنگامہ کیا۔     بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی)،  سماج وادی پارٹی،  بائیں بازو اور اجیت سنگھ کے لوک دَل کا ساتھ حکمراں محاذ،   یو پی اے کی جماعتوں نے بھی دیا۔

اپوزیشن  کے ارکان پُر امن رہنے کی اسپیکر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے جِس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی پورے دِن کے لیے ملتوی کردی گئی۔

ادھر،   اپوزیشن کو ایک اشو ہاتھ لگ گیا ہے اور بی جے پی،  سماج وادی پارٹی اور دوسری جماعتوں نے گنہ کاشت کاروں کا مطالبہ تسلیم کیے جانے تک پارلیمنٹ نہ چلنے  کی دھمکی دی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے گنے کی قیمت 129روپیہ فی کونٹل  مقرر کی ہے جب کہ کسان 280روپیہ فی کونٹل  کا مطالبہ کر رہے ہیں۔