انڈونیشیا کے صدر سسلیوبام بانگ یدھ یونو کی جانب سے مقررکردہ آئینی ماہرین کے ایک پینل نے ملک کے قانونی اداروں، پولیس اور استغاثہ کے دفتر کے لیے نمایاں اصلاحات کی تجویز دی ہے۔
اس غیر جانب دار پینل نے، جسے اینٹی کرپشن کے دو ممتاز عہدے داروں کے خلاف پولیس کی طرف سے لگائے گئے متنازع الزامات کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، ان الزامات کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس ٹیم نے، جس نے منگل کے روز صدر کو اس کیس کے بارے میں ایک رپورٹ اور اپنی حاصل کردہ قانونی معلومات صدر کے حوالے کی تھیں، یہ سفارش بھی کی کہ انڈونیشیا کے انسداد بدعنوانی کے کمشن کے دو نائب سربراہوں کے خلاف اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کوسزا دی جائے۔
صدر یدھ یونوکو اس کیس کے معاملے میں کوئی اقدام کرنے کے سلسلے میں دباؤ کا سامنا رہاہے، خاص طورپروہ ٹیلی فونک ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد، جس میں پولیس کے سینیئر ارکان اور پراسیکیوٹرز، دونوں عہدے داروں، چندرا حمزہ اور بیبت صمد ریانٹو کو گھیرنے کے بارے میں گفتگو کررہ تھے۔
ان دونوں عہدے داروں کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیاتھا۔ اس اسکینڈل کے نتیجے میں مظاہرے ہوئے اور بدعنوانی کے خلاف لڑائی صدر کی وابستگی کے بارے میں سوالات کھڑے ہوئے۔

