واشنگٹن میں قائم تعلیم سے متعلق ایک ادارے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن نے کہا ہے کہ بیرون ملک یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طالب علموں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے اورسن 2000 سے اپنے آبائی ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد 60 صد تک بڑھ چکی ہے۔
کیرولین، سپین، ارجنٹائن اور برازیل میں تعلیم حاصل کرچکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بیرون ملک پڑھنے سے دنیا کے بارے میں ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ وہ غیرملکی زبانیں سیکھنا ضروری سمجھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ میرے لیے یہ واقعی بہت اہم ہے کیونکہ لاطینی امریکی اور نصف کرہ ارض کے مطالعے میں ماسٹرز کی ڈگری لینے کا اس وقت تک کوئی زیادہ فائدہ نہیں، جب تک کہ لاطینی امریکہ کے دوسرے سکالرز کے ساتھ بات چیت کے لیے ہسپانوی اور پرتگیزی زبانیں نہ سیکھی جائیں۔
فرانسیسی ان زبانوں میں سے ایک ہے جسے بیرون ملک جاکر پڑھنے والے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ 2008ء میں سمندر پار ملکوں میں حصول تعلیم کے لیے جانے والے امریکیوں کی تعداد میں آٹھ فی صد تک کا اضافہ ہوا اور گذشتہ 20 سال میں یہ تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے۔
پبلک ڈپلومیسی اینڈ پبلک افیئرز کی انڈر سیکرٹری جوڈتھ میک ہیل کا کہنا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ اس قسم کا اضافہ ہمارے طالب علموں کو عالمی معیشت کو سمجھنے، اس کی سمت کا اندازہ لگانے اور اس میں آگے بڑھنے میں مدد کے لیے ضروری ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں2008 ء میں مختلف تعلیمی کورسز میں داخلہ لینے والے بین الاقوامی طالب علموں کی تعداد میں بھی آٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ جس کی ایک وجہ چین سے آنے والے انڈرگریجویٹ سٹوڈنٹس میں 21 فی صد اضافہ ہے۔ بھارت سے امریکہ آنے والے طالب علموں کی تعدادسب سے زیادہ ہے۔
امریکہ آنے والے انٹرنیشنل اسٹودنٹس، خاص طورپر بزنس، منیجمنٹ، انجنیئرنگ، سائنس اور ریاضی پڑھتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ان طالب علموں کی اکثریت اپنے اخراجات اپنے خاندان کی مدد سے یا اپنے ذاتی سرمائے سے پورے کرتے ہیں۔ اور وہ اس وقت امریکی معیشت 17 ارب ڈالر سے زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن سے منسلک پیگی بلیو منتھال کا کہنا ہے کہ ہم انہیں صرف ان کے شعبوں ہی میں تعلیم نہیں دے رہے بلکہ انہیں امریکی اقدار، امریکی کاروبار ی طریقوں اور امریکی ثقافت سے آگاہ کررہے ہیں تاکہ وہ جب اپنے ملکوں میں واپس میں جائیں اور اپنے معاشروں میں اہم کردار ادا کرنے لگیں تو ان کے پاس امریکہ کے بارے میں کہیں زیادہ بہتر فہم موجود ہو۔
بلیو منتھال کا کہنا ہے کہ بیرون ملک جانے والے بیشتر امریکی طالب علم اب بھی سوشل سائنسز کی تعلیم کے لیے یورپ اور لاطینی امریکہ جاتے ہیں۔ جب کہ لگ بھگ 20 فی صد چین اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ Carolyn French وہ جہا ں کہیں بھی پڑھتے ہیں، وہ بہت اہم چیزیں سیکھتے ہیں۔
کیرولین کہتی ہیں کہ ہمیں یہ محسوس کرلینا چاہیے کہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس میں بہت سی مختلف ثقافتیں اوردنیاکے بارے میں بہت سے مختلف اندازفکر موجود ہیں۔ اور ہمیں عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے اپنی صلاحیت میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت 30 لاکھ سے زیادہ طالب علم اپنے آبائی ملکوں سے باہر تعلیم حاصل کررہے ہیں اور 2025ء تک توقع ہے کہ ان کی تعداد بڑھ کر 80 لاکھ تک پہنچ جائےگی۔

