انٹرنیٹ اپنی چالیس سالہ تاریخ کی  ایک سب سے بڑی تبدیلیاں لارہاہے اور یہ تبدیلی ہے ایک  نیا کثیر لسانی انٹرنیٹ ایڈریس سسٹم،  توقع ہے کہ اس ہفتے اس نئے نظام کی منظوری دے دی جائے گی۔ 

انٹرنیٹ چلانے والے بین الاقوامی گروپ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ ایسا پہلی بار ہوگا کہ مختلف زبانوں مثلا عربی،  کوریائی اور جاپانی زبانوں کے اسکرپٹ  کو انٹرنیٹ ایڈریس کے استعمال کرنے کا اختیار دے دیا جائے گا۔ 

انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز یا آئی سی اے این این اس وقت ویب سائٹ کے ایڈریس کے لیے صرف غیر لاطینی حروف کے کچھ حصے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

توقع ہے کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں کارپوریشن کا پورا بورڈ ایک ہفتے پر محیط کانفرنس کے خاتمے پر جمعے کے روز اس تبدیلی کی منظوری دے دے گا۔

کارپوریشن کے صدر راڈ بیک سٹرام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے انٹرنیٹ پر ان لوگوں کی رسائی میں اضافہ ہوجائے جن کی زبانوں کی بنیاد لاطینی حروف پر نہیں ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد انٹرنیٹ استعمال کرنے والے دنیا کے لگ بھگ ایک ارب 60 کروڑ افراد کے نصف سے زیادہ ہے۔