ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب کے کم از کم پانچ اعلیٰ کمانڈروں سمیت 29 افراد ملک کے جنوب مشرقی حصے میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔  یہ واقعہ سیستان بلوچستان نامی ایرانی صوبے کے پشین شہر میں پیش آیا جس کی سرحدیں پاکستان کے بلوچستان صوبے سے ملتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 28 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جو اعلیٰ فوجی افسران اس حملے میں مارے گئے ہیں ان میں پاسداران انقلاب کی زمینی فوج کے نائب کمانڈر جنرل نور علی شستاری اورصوبائی کمانڈر جنرل رجب علی محمد زادے شامل ہیں۔  اطلاعات کے مطابق یہ ایرانی فوجی افسران سنی اور شعیہ برادری کے درمیان ایک اجلاس کرانے کی تیاریا ں کر رہے تھے جب ان پر خودکش حملہ کیا گیا۔  ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں عام افراد اور مقامی قبائلی عمائدین بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سیستان بلوچستان میں کالعدم انتہاپسند تنظیم جندواللہ سرگرم عمل ہے جو صوبے میں سنی اقلیتی برداری کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور ایرانی شیعہ حکمرانوں کی سخت مخالف ہے۔  لیکن ایران اس تنظیم کو دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے اور ایرانی حکام بار بار یہ الزام بھی لگاتے آئے ہیں کہ اس گروہ کے ارکان پاکستان کے بلوچستان صوبے کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  پاکستانی حکام ان الزامات کو رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس سنی انتہا پسند تنظیم کے ارکان گرفتار کر کے پاکستان نے ایران کے حوالے بھی کیے ہیں۔


اُدھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک نجی ٹیلی وژن سے انٹرویو میں پاکستان کی اس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی ایران کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے ایران میں خود کش حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تاھم ایران کی طرف سے اس الزام پر کہ جندولہ کا سربراہ پاکستان میں موجود ہے۔  ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ایسی قوتیں ضرور موجود ہیں جو پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہیں تاہم انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ دونوں ملک دوطرفہ تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔