ایران کے سابق صدر نے، جو اب ملک میں اصلاحات کی حامی سب سے بڑی پارٹیوں کی قیادت کررہے ہیں، 100 سے زیادہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف مقدموں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اُنہیں غیر آئینی قرار دیا ہے۔

تہران میں  اُن مقدموں کے آغاز کے صرف ایک دن بعد، جنہیں سابق صدر محمد خاتمی نے “نمائشی” مقدمے کہا ہے، اتوار کے عدالت کے ہتھکنڈوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلائے استغاثہ اُن اقبالی بیانات  کا سہارا لے رہے ہیں، جو خلافِ قانون طریقے سے حاصل کیے گئے ہیں۔

ہفتے کے روز عدالت میں وکائےاستغاثہ نے احتجاجی مظاہرین پر ایران کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے کسی“مخملی انقلاب”  کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔  اصل مخملی انقلاب 1980کے عشرے کے آخر میں مشرقی یورپ کے ملکوں میں آیا  تھا، جہاں خون بہائے بغیر سوویت حکمرانی کو ختم کردیا گیا تھا۔

ایران میں سرگرم سیاسی کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 12 جون کے صدراتی انتخاب کے بعد ، جس میں موجودہ محمود احمدی نژاد کامیاب ہوئے تھے، وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے منظم کیے تھے۔  حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ پولنگ میں دھاندلی کی گئى تھی اور اُس کے نتائج داغدار تھے۔

جن لوگوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، اُن میں مسٹر خاتمی کے دورِ صدارت کے سابق نائب صدر محمد علی ابطحی، پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی سپیکر بہزاد نبوی اور حکومت کے سابق ترجمان رمضان زادہ سمیت کئى ممتاز سیاست داں شامل ہیں۔
ان میں سے کچھ افراد نے اب اپنے اس دعوے کو واپس لے لیا ہے کہ  الیکشن میں دھنادلی کی گئی تھی۔ اور ان لوگوں میں ابطحی بھی  شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دعوے واپس لیے ہیں، اُن کے ساتھ پوچھ گچھ کے دُرشت طریقے استعمال کیے گئے تھے اور بعض افراد کا مارا پیٹا گیا تھا۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائیٹس واچ نے کہا ہے کہ  بعض ممتاز وکلا کو  عدالت میں مدعا علیہم کی پیروی کرنے سے باز رکھنے کے لیے  گذشتہ ہفتوں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ مقدمے ایسے وقت میں شروع ہوئےہیں، جب چند ہی روز بعد صدر احمدی نژاد دوسری معیاد کے لیے اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے والے ہیں۔

 اسی دوران، ابطحی کے وکیل صالح نیک بخت نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ انہیں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے  اس مقدمے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا  اور جب وہ  عدالت  گئے  تو انہیں عدالت کے کمرے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔  ابطحی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ سابق نائب صدر جب سے جیل گئے ہیں، اُن کا وزن 40 پاؤنڈ کم  ہوگیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ نظر بندوں سے جھوٹے اقبالِ جرم حاصل کرنے کے لیے انہیں مارا پیٹا گیا اور اُن کے خلاف پوچھ گچھ کے دُرشت طریقے استعمال کیے گئے۔