ایرانی پولیس کے اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ جرائم کے انسداد کے لیے پولیس کا ایک نیا دستہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے اِس اقدام کو حکومت کی طرف سے حزبِ ٕمخالف کو ہدف بنانے کےایک ہتھکنڈے سے تعبیر کیا ہے، جو پیغام رسانی کے لیے انٹرنیٹ کا وسیع استعمال کرتی ہے۔
ایرانی پولیس کے سربراہ برگیڈیئر اسماعیل احمدی مقدم کے بقول انٹرنیٹ جرائم کے انسداد کے لیے ادارہ، سائبر پولیس ڈویژن تشکیل دیا جا رہا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی خبرکے مطابق احمدی مقدم کو شکایت ہے کہ انٹرنیٹ جرائم بڑھتے جارہے ہیں اور ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایرانی پولیس اِس قسم کی انحرافیوں کو روکنے کی خاطر اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے۔
ایرانی قانون میں چوری، دھوکہ دہی اورجعل سازی جیسے جرائم کو یکساں طور پر قابلِ گرفت گردانا جاتا ہے، جب کہ اکثرو بیشتر سیاسی سرگرمیوں کو ‘ ہتک اور شرارت’ کے زمرے میں نتھی کیا جاتا ہے، جِس کے باعث تجزیہ کاروں کو پریشانی لاحق ہے۔
پولیس کرنل مہرداد امیدی انٹرنیٹ جرائم ڈویژن کے کرتا دھرتا ہیں۔ اُنھوں نے یہ بات ہفتے کو ایرانی پریس کو بتائی۔ اُن کے بقول، توہین اوردروغ گوئی کےفعل سے خلاف سختی کےساتھ نمٹا جائے گا۔
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ 12رکنی کمیشن کو انٹرنیٹ پر سیاسی معاملات پر نظر داری پر مامور کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال میں فروغ کے پیشِ نظر ضرورت اِس بات کی ہے کہ پولیس ویب کے زمرے میں پیش آنے والے جرائم کا مقابلہ کرے۔
ایرانی حزبِ مخالف کے بیشتر ویب سائٹ جِن میں چوٹی کے قائدین میر حسین موسوی اورآیت اللہ مہدی کروبی شامل ہیں، غیر قانونی تصور کیے جاتے ہیں اور اِنھیں ایرانی حدود کے اندر بلاک کیا جائے گا۔
رضا معینی، پیرس میں قائم غیر سرکاری تنظیم، ‘ رپورٹرز وِدہاؤٹ بارڈرز’ کے ساتھ منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب انٹر نیٹ پر چوکسی کے کام کو دیگر سرکاری ایجنسیوں کے پاس سےلے کر اپنے ذمے لیتے جارہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کئی ایک نکات قابلِ غور ہیں، خصوصی طور پر جب ایرانی پارلیمنٹ نے انٹرنیٹ قانون کی منظوری دی اُس وقت چوکسی کے کام سے متعدد ادارے وابستہ تھے، لیکن اب جب کہ حزبِ ٕمخالف کی تحریک جاری ہے حکومت کو اِس بات پرتشویش ہے کہ لوگوں میں اطلاعات کے پھیلاؤ میں انٹرنیٹ بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اِن باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پولیس دخل انداز ہونے لگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس سے مراد پاسدارانِ انقلاب ہے جو رفتہ رفتہ گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
انٹیلی جنس کی وزارت نے حزب مخالف کے مظاہروں کے دوران خبر رسانی کے ذرائع پر رکاوٹ ڈالنے کی خاطر انٹرنیٹ اور موبائل فون کی ترسیل پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ حزب مخالف کے سرگرم کارکنوں نے شکایت کی ہے کہ انٹرنیٹ بے حد سست رفتار ہوگئی ہے اور انٹرنیٹ کی سہولیت بہم پہنچانے والے ادارے قانون کے پنجے سے بچنے کے لیے جعل سازی کے انداز اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
اب بھی میر حسین موسوی کے فیس بک ویب پیج کی طرح، دیگرحزب مخالف کے متعدد معروف سائٹ پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اور اپوزیشن کی سرگرمیوں کے بارے میں شائع ہونے والے بلیٹن پڑھتے ہیں۔
محمد رضا جلائی پور، حزبِ مخالف کے معروف جواں سال کارکن ہیں۔ حکومتی گرفتاری سے قبل اُنھوں نے اپنا جذباتی اعتراف ریکارڈ کرایا کہ وہ موسوی کے فیس بک ویب سائٹ کو دیکھنے کے اپوزیشن کی سرگرمی میں کیوں شامل ہوئے۔
رضا معینی کہتے ہیں کہ سرگرمی سےانٹرنیٹ استعمال کرنے والے اور ویب سائٹ تشکیل دینے والے لوگ مختصر تعداد میں ہیں، جنھیں حکومت نے گرفتار کر رکھا ہے اور جو قید میں ڈال دیے گئے ہیں۔
پولیس کرنل امیدی نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی حرکت سرزد ہوتی ہے تو ایرانی حکومتی اہل کار انٹرنیٹ پر سیاسی معاملات کو روکنے کا اقدام کریں گے۔
ایرانی دانش ور اور حزب مخالف کے کارکن ایک دوسرے اور بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں، جِس کے لیےوہ ایران کےداخلی اور بیرونی مقامات سے شائع ہونے والے ویب سائٹوں پر تبصرے اور معلومات پوسٹ کرتے ہیں۔ کئی ایک کو شکایت ہے کہ نظروں میں آجانے کی صورت میں اُنھیں حکومت کی طرف سے گرفتار کیے جانے کا خوف لاحق رہتاہے۔

