ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے تہران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کرنے اور ایک ایسے مسلم ادارے کے اثاثوں کو منجمد کردینے پر امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے، جس پر ایرانی حکومت کو رقوم فراہم کرنے کا الزام ہے ۔
علی لاری جانی نے اتوار کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما ایک سال سے خالی تقریریں کررہے ہیں۔ لاری جانی کہا کہ مسٹر اوباما کے اقدامات، حقیقت میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کے اقدامات جیسے ہی ہیں۔
لاری جانی نے مسٹر اوباما کے طرزِ عمل کو “وقار سے عاری” قرار دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان اُن کی تقریر کے دوران“ امریکہ مُردہ باد” کے نعرے لگاتے رہے۔
مسٹر اوباما نے پچھلے ہفتے ایران کے خلاف ایک عرصے سے قائم پابندیوں میں یہ کہتے ہوئے مزید ایک سال کی توسیع کی تھی کہ ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات ابھی تک معمول پر نہیں آئے ہیں۔
اس کے باوجود، اوباما انتظامیہ نے تہران کے ساتھ سلسلہ جنبانی قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ بُش انتظامہ اُسے الگ تھلگ کرنے میں کوشاں رہی تھی۔
اور پچھلے ہفتے امریکہ کے وفاقی وکلائے استغاثہ نے ایک دیوانی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں مسلمانوں کے ایک فلاحی ادارے کی آٹھ املاک کو ضبط کرلینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ استغاثہ نے علوی فاؤنڈیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے ایران کے سرکاری ملکیت کے بینک مِلّی کو لاکھوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔

