ایران کے ایک چوٹی کے فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کو حملوں سے بچانے کے مقصد سے فضائى دفع کی جنگی مشقیں کرے گا۔

بریگیڈئر جنرل احمد میغانی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کو بتایا کہ یہ مشقیں بڑے پیمانے پر اتوار سے شروع ہوں گی اور پانچ روز تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشقوں میں ایران کے اعلیٰ تربیت یافتہ پاس دارانِ انقلاب اور فوج کے دوسرے یونٹ حصّہ لیں گے۔ 

ایرانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ یہ جنگی مشقیں چھ لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط وسطی اور جنوبی ایران کے اُن علاقوں میں ہوں گی جہاں ایران کی جوہری تنصیبات واقع ہیں۔

ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام کو لاحق مفروضہ خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تیاری کا مظاہرہ کرنے کی خاطر اکثر فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے۔  ایران کے جوہری مسئلے کو حل کرنے کی سفارتی کوششوں کے ناکام ہوجانے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل نے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔
جمعے کے روز چھ بڑی طاقتوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا کہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے تجویز کردہ اُس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجے۔

جمععے کے روز جرمنی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ملکوں امریکہ،  برطانیہ،  فرانس،  چین اور روس نے برسلز میں یورینیم افزودہ کرنے کے مجوزہ منصوبے اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق دوسرے مسائل پر غوروخوض کیا تھا۔

 بدھ کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متّکی نے کہا تھا کہ اُن کا ملک یورینیم کو بیرونِ ملک لے جاکر افزودہ نہیں کرے گا جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک سمجھوتے میں تجویز کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایران صرف ملک کے اندر ہی یورینیم کے بدلے ایندھن کے انتظام پر غور کرے گا۔

بیرونِ ملک یورینیم افزودہ کرنے کے منصوبے کا مقصد اس بارے میں بین الاقوامی تشویش کو دُور کرنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔