امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ جوہری ایندھن سے متعلق ایک مجوزہ سمجھوتا  قبول کرنے سے ایران کے انکار کے نتائج کے بارے  میں امریکہ نے اپنے بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کردیے ہیں۔ 

مسٹر اوباما نے جمعرات کے روز جنوبی کوریا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے کئى ہفتوں تک  ایسے ممکنہ اقدامات کو کوئى حتمی شکل دے دی جائے گی جن کا مقصد ایران  کو ایک واضح پیغام دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا  وہ بدستور یہ امید رکھتے ہیں کہ  ایران انجام کار اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام اُس سمجھوتے کو  قبول کرنے کا فیصلہ کرلے گا جس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ   یورینیم کو مزید افزودہ کرنے کے لیے ایران سے کسی  دوسرے ملک  بھیجا جائے۔

یورپی یونین کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں غور کرنے کے لیے  بین الاقوامی طاقتیں جمعے کے روز برسلز میں اجلاس کریں گی۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ نئى پابندیوں پر غور کرنا ابھی  قبل از وقت ہوگا۔   وزارت نے کہا ہے کہ ایران نے ابھی تک سرکاری طور پر   سمجھوتے کی تجویز  کا جواب نہیں دیا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے نتائج کی تازہ ترین دھمکیوں کو یہ کہتے ہوئے ردً کردیا ہے کہ اُس کے خیال میں مغربی ملکوں کے پاس اتنی عقل ہوگی کہ وہ،  بقول اُس کے،  ماضی میں پابندیوں کے  ناکام تجربات کو نہیں دہرائیں گے۔