ایران کے فوجی عہدے داروں نے کہا ہے ملک کی مسلح افواج وسیع پیمانے پر فضائى دفاع کی جنگی مشقوں میں دوسرے روزبھی مصروف رہیں۔
عہدے داروں نے کہا ہے کہ ملک کی جوہری تنصیبات کو حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کی تیاری کے طور پر ان جنگی مشقوں کے دوران تنصیبات پر فضائى حملوں کے خلاف دفاع کی مشق کی جارہی ہے۔
یہ جنگی مشقیں چھ لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط وسطی اور جنوبی ایران کے اُن علاقوں میں ہورہی ہیں، جہاں ایران کی جوہری تنصیبات واقع ہیں۔
یہ مشقیں جو اتوار سے شروع ہوئى ہیں، پانچ روز تک جاری رہیں گی۔ اور یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران پر اُس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ایران کے جوہری مسئلے کو حل کرنے کی سفارتی کوششوں کے ناکام ہوجانے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل نے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ امیر علی حاجی زادے نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اگر اسرائیل کے لڑاکا طیارے ایران کے فضائى دفاع کے نظام سے بچ نکلے تو ایرانی فو ج زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائیلوں سے اسرائیل کے فوجی اڈوں پر حملے کرے گی۔

