ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی یا اے ای آئى اے کے سربراہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم کو مزید افزدہ کرنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کی تجویز کو قبول کرلے۔
محمد البرادعی نے کہا ہے کہ انہیں اُمید ہے کہ ایران اس اچھوتے موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دے گا جو جلد ہی ختم ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ فیصلہ کرنا ایران کا کام ہے کہ وہ اس مسئلے پر کس طرح آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
البرادی نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب جرمنی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جمعے کے روز بروسلز میں مذاکرات شروع کرنے والے ہیں۔
بدھ کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہرمتّکی نے کہا تھا کہ اُن کا ملک یورینیم کو بیرونِ ملک لے جاکر افزودہ نہیں کرے گا جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک سمجھوتے میں تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران صرف ملک کے اندر ہی یورینیم کے بدلے ایندھن کے انتظام پر غور کرے گا۔
امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اُن کی انتظامیہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مجوزہ سمجھوتے کو قبول کرنے سے ایران کے انکار کے نتائج پر غورو خوض شروع کردیا ہے۔


