ایران نے اُن سیاسی نظربندوں کے خلاف دوسرے اجتماعی مقدمے کی سماعت شروع کردی ہے، جن پر ملک کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعداحتجاجی مظاہروں کے دوران، لوگوں کو فساد پر اُکسانے کا الزام ہے۔
جن لوگوں پر ہفتے کے روز مقدمہ شروع کیا گیا ہے، اُن میں ایک فرانسیسی استانی اور برطانوی سفارت خانے کا ایک ایرانی ملازم بھی شامل ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے جو تصویریں شائع کی ہیں، اُن میں 24 سالہ فرانسیسی لیکچرر کلوتِلدے رائیس کو عدالت کے کمرے میں اگلی قطار میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اُن پر احتجاجی مظاہروں کے بارے میں اطلاعات حاصل کرنے، تصویریں اُتارنے اور اُنہیں بیرونِ ملک بھیجنے کی بنا پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اِرنا کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اپنی ”غلطیوں“ کا اعتراف کرلیا ہے۔
برطانوی سفارت خانے کے ملازم حسین رسّام کو بھی اسی قسم کے الزامات کا سامنا ہے۔ اور اُس کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اُس نے ہنگاموں کی خبریں لندن بھیجنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
ایران میں اعتدال پسند اور اصلاحات کے حامی سیاست دانوں نے قانونی کارروائیوں کو ”نمائشی مقدمے“ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمّت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جو بھی اقبالی بیانات حاصل کیے گئے ہیں، وہ پوچھ گچھ کے دُرشت طریقوں سے حاصل ہوئے ہیں۔

