صحافیوں کے حقوق کی تنظیم رپورٹرزوِدآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے  بظاہر غیر جانبدار  ذرائع ابلاغ کو کچلنے کی ایک مہم کے تحت  تین اور صحافیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

پیرس میں قائم تنظیم نے کہا ہے گرفتاریوں  کے ان واقعات کے تازہ ترین واقعے میں  حکام نے آکُو کُرد نصب  کو گرفتار کرلیا  ہے جو ایک ہفت روزہ جریدے کرفتو  کے لیے کام کرتا تھا۔ حکومت نے اُس جریدے کو ایک سال پہلے بند کردیا تھا۔

کُرد نصب کو ایران کے صوبے کردستان  کے دارالحکومت سنندج میں ایک سیاسی قیدی کی سزائے موت پر احتجاج کرنے کی بنا پر 12نومبر کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے  کہا ہے کہ  ایران نے حال ہی میں  ایران کی ایک ویب سائیٹ ”صحافت برائے امن“ کے ایڈیٹر مزدک علی نَظَری کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ ناظری نے14 نومبر کو اپنے خاندان کو ٹیلی فون کرکے بتایا تھا کہ اُسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔   تنظیم نے یہ نہیں بتایا کہ اُسے کب اور کہاں گرفتار کیا گیا تھا۔

تنظیم نے کہا ہے کہ تیسرے ایرانی صحافی رحیم غلامی کو 29 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔   وہ شمال مغربی شہر ارد بیل میں  کئى مقامی اخباروں کے لیے لکھتے تھے۔