عراق کے انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ ملک کے سنی عرب نائب صدر کی جانب سے ایک اہم انتخابی قانون کے کچھ حصوں کے ویٹو کیے جانے کے بعد اس نے جنوری میں عام انتخاب کرانے کی تیاریاں روک دی ہیں۔

نائب صدر طارق الہاشمی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اس قانون کو ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں واپس بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمندر پار رہنے والے عراقیوں کی مزید نمائندگی چاہتے ہیں جن میں سے بہت سے سنی عرب ہیں۔

مسٹر ہاشمی عراق کی صدارتی کونسل کے ان تین ارکان میں سے ایک ہیں جن سے انتخابات کے انعقاد سے قبل اس قانون کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔ قانون سازوں کو اب اس بل پر اپنی بحث دوبارہ شروع کرنا ہوگی۔

عراق کے انتخابی کمیشن کے ایک رکن قاسم العبودی نے کہا کہ اس نئے اقدام سے انتخابات میں یقینی طورپر تاخیر ہوگی۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے مسٹر ہاشمی کے ویٹو کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت اور سیاسی عمل کے لیے خطرہ قرار دیا۔

ایک اور خبرکے مطابق عراق کے کردستان کے علاقے کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں علاقے کے لیے مزید نشستیں مختص نہ کی گئیں تو کردستان کے عوام عام انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔

عراقی 323 رکنی پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ یہ تعداد پارلیمنٹ کی نشستوں کی موجودہ تعداد 275 سے زیادہ ہے۔