عراقی پارلیمنٹ ایک بار پر اُس اہم مسودہ پر جاری تعطل کو ختم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے  جسے منظور کرنا جنوری  میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے ضروری  ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے اتوار کے روز صلاح مشورے جاری رکھے۔  لیکن وہ اس مسئلے کا کوئی حل  دریافت نہ کرسکے۔  پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر خالد العطیہ  نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان پیر کے روز  دوبارہ اس پر غور کریں گے۔

 پچھلے ہفتے عراقی نائب صدر  طارق الہاشمی نے  مجوزہ انتخابی قانون کو  ویٹو کردیا تھا اور بِل کو واپس پارلیمنٹ کو بھج دیا تھا۔

نائب صدر بیرون ملک رہنے والے اُن عراقیوں کو زیادہ نمائیندگی  دینا چاہتے ہیں  جن میں بہت سے لوگ سنّی عرب ہیں۔  اُن کے ویٹو کے بعد عراق کے الیکشن کمیشن  نے  عام انتخابات کی تیاریاں روک دی تھیں۔

عراق کے الیکشن کمیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ مسودہ قانون پر ووٹنگ میں غالباً تاخیر ہوگی۔  لیکن ملک کے آئین کا تقاضا یہ ہے کہ انتخابات 31 جنوری تک ہوجائیں۔

پارلیمنٹ کے سامنے اب ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ نائب صدر ہاشمی کے اعتراض کو دُور کرنے کے  لیے مسودہ قانون میں ترمیم کر ے۔  اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اسے جوں کا توں دوبارہ تین رُکنی مجلسِ صدارت کو بھیج دے، جہاں اسے دوبار وِیٹو کیا جاسکتا ہے۔