عراقی پارلیمنٹ کا وہ اجلاس جس کا مقصد جنوری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے درکار ایک انتخابی قانون پر تعطل کو ختم کرنا تھا، کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔
توقع تھی کہ عراقی پارلیمنٹ کے ارکان ہفتے کے روز اُس مسودہ قانون پر ووٹنگ کریں گے جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ پارلیمنٹ کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ اب ووٹنگ کو اس اُمید میں اتوار تک ملتوی کردیا گیا ہے کہ اس دوران کوئى ایسا حل دریافت ہوجائے گا جو تمام سیاسی دھڑوں کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔
عراقی نائب صدر طارق الہاشمی نے کئى دن پہلے مجوزہ انتخابی قانون کویہ کہتے ہوئے ویٹو کردیا تھاکہ وہ بیرون ملک رہنے والے اُن عراقیوں کو زیادہ نمائندگی دینا چاہتے ہیں جن میں بہت سے لوگ سنّی عرب ہیں۔ اُن کے ویٹو کے بعد عراق کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں روک دی تھیں۔
پارلیمنٹ اس بارے میں غور کرتی رہی ہے کہ آیا سنّی نائب صدر کو مجلسِ صدارت کو پیش کیے جانے والے کسی مسودہ قانون کو ردکردینے کا قانونی حق حاصل ہے۔

