فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ہی اصل مسئلہ ہیں اور فلسطینی اور اسرائیلی راہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے لیے کوئی مشترکہ جواز موجود نہیں ہے۔
صدر محمود عباس نے یہ تبصرہ عربی زبان کے اخبار الحیات میں جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں کیا۔
مسٹر عباس نے کہا کہ چوں کہ اسرائیل نے مغربی کنارے پر بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے، اس لیے دونوں راہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
ان کا یہ بیان اقوام متحدہ میں بدھ کے روز صدر اوباما کے خطاب کے بعد سامنے آیا ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کو پیشگی شرائط کے بغیر امن مذاکرات شروع کرنے چاہئییں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر اوباما کے اس خیال کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن انہوں نے حتمی معاہدے کے لیے یہ کہتے ہوئے اپنی شرط کو دوہرایا کہ فلسطینیوں کو لازمی طور پر اسرائیل کو ایک ریاست کے طورپر تسلیم کرنا ہوگا۔
فلسطینی اسرائیل سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے قبل اسے مغربی کنارے میں اپنی بستیوں کی تمام تعمیرات کو روکنا ہوگا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہودی خاندانوں کی قدرتی افزائش کو رہائش فراہم کرنے کے لیے کچھ تعمیرات ضروری ہیں اور اس نے عارضی طورپر تعمیرات روکنے کی پیش کی ہے۔
صدر اوباما نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے ایک روز قبل مسٹر محمود عباس اور نیتن یاہو کے درمیان ایک اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ صدر اوباما نےان دونوں راہنماؤں سے الگ الگ بھی ملاقات کی۔

