امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں نئی بستیوں کی تعمیر کی اجازت دینے کے تازہ ترین فیصلے سے اسرائیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ جگہ نہیں بنے گا اور اس سے امن کی کوششوں میں مزید پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
بدھ کے روز امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں مسٹر اوباما نے کہا کہ اضافی بستیوں کی تعمیر سے اسرائیل کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا اقدام فلسطینوں کو بقول ان کے کچھ اس انداز سے برہم کرسکتا ہے جس کا نتیجہ بہت خطرناک شکل میں سامنےآسکتا ہے۔
اسرائیلی عہدے داروں نے بدھ کے روز مشرقی یروشلم میں نو سو نئے گھروں پر مشتمل یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتا۔
صدر عباس کہہ چکے ہیں کہ جب تک اسرائیل مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اپنی تعمیرات روک نہیں دیتا، مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے۔

