جاپانی وزیر اعظم یوکیو ہاتویاما نے اگلے سال کے انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی زیر حراست راہنما آنگ ساں سوچی کو رہا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر برما جمہوری اصلاحات کی طرف پیش قدمی کرتا ہے تو ٹوکیو اسے مزید امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہفتے کے روز ٹوکیو میں برما کے وزیر اعظم تھین سین کے ساتھ بات چیت کے دوران مسٹر ہاتو یاما نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ برما 2010 میں عام انتخابات کے انعقاد سے قبل آنگ ساں سوچی اور دوسرے سیاسی راہنماؤں کو رہا کرے۔
جاپانی راہنما نے کہا کہ فوجی حکومت اور نوبیل انعام یافتہ شخصیت کے درمیان مذاکرات سمیت حالیہ پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان برما کے لیے انسانی ہمدردی اور انسانی وسائل کی معاونت میں مرحلہ وار اضافہ کرے گا۔
پچھلے ہفتے ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے الگ تھلگ ہوجانےو الے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے ساتھ عملی رابطے قائم کرنے کی صدر باراک اوباما کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک کے حکمران جنرلوں سے بات چیت کے لیے برما کا دورہ کیا تھا۔

