ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پچھلے دو روز کے دوران مخالف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے کم ازکم دس کارکنوں کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے اور شہریوں کا الزام ہے کہ پولیس ” ٹارگٹ کلنگ“ کے ان واقعات کو روکنے میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔

اقتصادی سرگرمیوں کے مرکز اس پاکستانی شہر میں حالیہ مہینوں کے دوران اردو بولنے والی اکثریتی مہاجر کمیونٹی اورکراچی میں آباد پشتون برادری کے درمیان لسانی کشیدگی کئی افراد کے قتل کا باعث بنی ہے لیکن کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے وائس آف امریکہ کو بتا یا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے تازہ ترین واقعات کی وجہ لسانیت یا سیاسی نہیں بلکہ یہ متحدہ قومی مومنٹ اور اسکے مخالف دھڑے مہاجر قومی مومنٹ حقیقی کی آپس کی دشمنی ہے ۔

وسیم احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن وامان قائم کرنا اور”ٹارگٹ کلنگ“ کے واقعات کو روکنااکیلے پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہر کی بڑی سیاسی پارٹیاں بشمول متحدہ قومی مومنٹ اور ایم کیو ایم حقیقی گروپ سب کو مل کر صورت حال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں ڈبل سواری پر کئی ماہ سے پابندی عائد ہے لیکن اس کے با وجود قتل کے بیشتر واقعات موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے پیش آئے ۔ پولیس اور صوبائی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پابندی سے شہر میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کہتے ہیں کہ اگر یہ پابندی نہ ہوتی تو قتل کے حالیہ واقعات کی تعداد زیادہ ہوتی ۔

حقوق انسانی کی علمبردار ملک کے ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ایک سو سے زائد سیاسی کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے لیکن پولیس اور صوبائی حکومت کی طرف سے تشدد کے ان واقعات کو روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر حکمت عملی وضع نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 90 کی دہائی کے وسط میں متحدو قومی مومنٹ اور ایم کیو ایم حقیقی کے درمیان دشمنی کے نتیجے میں کراچی میں ہزاروں افراد ہلاک کردیے گئے تھے اور پولیس حکام کو خدشہ ہے کہ اگر سیاسی پارٹیوں نے امن وامان کو بہتر کرنے میں پولیس کی مدد نہ کی تو حالات ایک بار پھر سنگین صورت حال اختیار کر سکتے ہیں۔