بوسنیا کے زمانہ جنگ کے سرب لیڈررادوان کرادزک ، جنگی جرائم سے متعلق مقدمے میں، جس کی سماعت پچھلے ہفتے شروع ہوئی تھی، پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے اوراپنے دفاع کی تیاری کے لیے مزید وقت مانگا ۔
64 سالہ کرادازک نے، جو اپنا دفاع خود کررہے ہیں،سابق یوگوسلاویہ کے جنگی جرائم سے متعلق ٹریبونل میں اپنے مقدمے کی سماعت کے آغاز پر  حاضر ہونے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں 1992سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ میں ان پر نسل کشی اور جنگی جرائم  کے حوالے سے عائد 11 الزامات کے دفاع کی تیاری کے لیے انہیں کم ازکم 10 ماہ درکار ہیں۔
منگل کے روز ہیگ میں  انتظامی نوعیت کی سماعت تعطل دور کرنے کے طریقے ڈھونڈنے کے لیے ہوئی کہ یا تو مقدمے کی کارروائی ملزم کی موجودگی کے بغیر جاری رکھی جائے یا کرادازک کی غیر حاضری میں ان کی نمائندگی کے لیے کسی قانونی ماہر کو تعنیات کیا جائے۔
پیر کے روز استغاثہ نے ٹربیونل کو بتایا کہ کرادازک 1995 میں سربیا کے اس قتل عام کے سرغنہ تھے جس میں  آٹھ ہزار کے لگ بھگ مسلمان مردوں کو لڑکوں  کو ہلاک کیا گیاتھا۔