افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بدعنوان سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور آئندہ پانچ سالوں کے دوران ملک کی حفاظت اوراستحکام لانے کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے کا عزم کیا ہے۔

جمعرات کو کابل میں نئی پانچ سالہ مدت کے لیے ملک کے صدرکا حلف اٹھانے کے بعد خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نجی افغان اور غیرملکی سکیورٹی کمپنیاں آئندہ دو سالوں کے اندر ملک میں کام کرنا بند کردیں۔

صدر کرزئی نے اس موقع پر صدارتی انتخاب میں اپنے تمام حریفوں بشمول ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو دعوت دی کہ وہ ملک کی یکجہتی اور خوشحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔  تاہم افغان صدر نے اپنے سیاسی حریفوں کوحکومت میں شامل ہونے کی پیشکش نہیں کی۔  اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ شورش پسندی سے نمٹنے کی کوششوں کے سلسلے میں وہ روایتی لویا جرگہ بلائیں گے تاہم اس کے لیے انھوں نے تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

صدر کرزئی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ مقامی اور بین الاقوامی وسائل کو بروئے کار لا کر افغانستان میں جاری جنگ کو ہمیشہ خاتمہ کر دیا جائے۔  افغان رہنما نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں سوشل، قانونی اور انتظامی اصلاحات کے نفاذ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ایمانداری سے اس مقصد کے حصول کے لیے ایماندارانہ کوششیں جاری رہیں گی۔

صدر کرزئی نے کہا کہ وہ جلد ہی کابل میں ایک اجلاس کا انعقاد کریں گے جس میں بدعنوانی کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا جب کہ ان کی حکومت منشیات کے خلاف جنگ بھی سنجیدگی سے جاری رکھے گی۔  ان کے بقول بدعنوانی ملک کے لیے ایک خطرناک دشمن کی مانند ہے اور جو لوگ اس کو فروغ دے رہے ہیں ان کے خلاف عدالتی وقانونی کارروائی کر کے انھیں سزا دی جائے گی۔

افغانستان کی عدالت عظمی کے چیف جسٹس نے صدر کرزئی سے حلف لیا اور اس تقریب میں دنیا سینکڑوں افغانوں اور 40 ملکوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی شامل تھے۔  اپنی تقریر میں صدر کرزئی نے پاکستانی ہم منصب کی موجودگی کو دونوں ملکوں کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات کی عکاسی ہے۔