کابل میں اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوسری مدت کے لیے منتخب افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ اِس موقع پر اُن کے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری کی موجودگی، دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کا مظہر ہے۔
افغان صدر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی آمد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کی بھی غمازی کرتی ہے۔
‘وائس آف امریکہ’ سے انٹرویو میں ممتاز تجزیہ نگار پروفیسر رسول بخش رئیس نے پاکستانی صدر کی افغان صدر کی حلف برداری کی تقریب میں موجودگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں انتشار اور فساد ہے تو پاکستان اُس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اُن کے بقول، ‘یہ صرف خواہش نہیں بلکہ ہمارا بنیادی مفاد ہے، جِس کے تقاضے کے طور پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گا جِس کی اُسے ضرورت ہے، اپنے آپ کو مستحکم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے۔ ’
افغان صدر کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان اور افغانستان کے تعاون پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اِس بارے میں پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ جب تک کہ حکومت افغانستان میں صحیح طریقے سے نہیں چلے گی، دہشت گردی کے خلاف پاکستان آگے پیش رفت نہیں کر سکتا۔
رسول بخش رئیس نے مزید کہا کہ اگرکرزئی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے یا غیر مؤثر ہونے کی صورت میں افغانستان میں جنگ رہتی ہے، تو اُس سے پاکستان کی قومی سلامتی پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔ ‘اِس لیے، ہماری توقعات یہ ہیں کہ اگر ماضی سے کچھ سبق سیکھا گیا ہوگا، تو آئندہ پانچ سالوں میں کرزئی حکومت ذرہ بہتر کارکردگی دکھائے گی۔ ’
لیکن، اُنھوں نے کہا کہ خدشات ابھی تک موجود ہیں کہ کرپشن پر قابو نہیں پایا جارہا، اسمگلروں کے سرغنے حکومت کے ساتھ ہیں اِس لیے حکومت اُن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ‘افغانستان میں، منشیات کی پیداوار اور پھیلاؤ زیادہ بڑھا ہے جِس کا اثر پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر پڑتا ہے۔ اِس کے باعث افغانستان میں طاقت کے مرتکز ہونے کا معاملہ، اور اُسے طالبان کے خلاف استعمال کرنے کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے، جِس سے پاکستان کی سلامتی کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ’


