مغربی لیڈروں  نے محتاط انداز میں افغان لیڈر حامد کرزئى کی تعریف کی ہے،  جنہوں  نے دوسری پانچ سالہ معیادِ صدارت کے لیے اپنی حلف برداری کے موقعے پر اپنی انتظامیہ کے ہدفوں کا خاکہ پیش کیا ہے۔ 

جمعرات کے روز کابل میں جن درجنوں عمائدین نے  مسٹر کرزئى کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اُن میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن  بھی شامل ہیں۔ 

کلنٹن نے کہا ہے کہ انہیں افغان لیڈر سے یہ سُن کر خوشی ہوئى  ہے کہ اُن کے ملک کی سکیورٹی فورسز  پانچ سال کے اندر اندر افغانستان میں جنگجو عناصر کے خلاف  جنگ کی قیادت سنبھال لیں گی۔   کلنٹن نے جمعرات کے روز افغانستان میں تعینات امریکی اور بین الاقوامی فوجوں  سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔

  برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ  کے دفتر  سے جاری کردہ ایک  بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ افغان لیڈر کی تقریر کا خیر مقدم کرتے ہیں،  جس میں انہوں نے ” غلطیوں  سے سیکھنے “ اور بد عنوانیاں ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اسی دوران  جرمن وزیرِ خارجہ گائڈو ویسٹر ویل نے کہا ہے کہ مسٹر کرزئى کی تقریر  میں صحیح باتوں پر زور دیا گیا ہے۔   انہوں نے کہا ہے جرمنی کو اُمید ہے کہ  افغان لیڈر کے”درست الفاظ کے بعد  عمل بھی درست ہوگا۔ “