بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کی آمد کے 62سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منگل کو کئی سرکاری تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اِس سلسلے میں خصوصی طور پر اُدھم پور میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹرز پر پیریڈ منعقد ہوئی۔

بھارتی فوج اِس دِن کو ‘اِنفنٹری ڈے’ کے طور پر مناتی آئی ہے۔ تاہم مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں اِس موقعے پر عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ہڑتال کی یہ اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری تنظیموں نے کی تھی جِن کا استدلال ہے کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سری نگر کے چند مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی خبر ملی ہے۔ اِس سے پہلے کئی سرکردہ علاحدگی پسندوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔

دریں اثنا بدھ کے روز بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی آمد سے پہلے وادی کشمیر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ،  حکمراں یونائٹیڈ پروگریسو الائنس کی چیرپرسن سونیا گاندھی اور وزیرِ ریلوے ممتا بینرجی کے ہمراہ وادی کے دو روزہ دورے پر آ رہے ہیں اور اننت ناگ اور قاضی غُنڈ کو ریل سے ملانے کی تقریب میں حصہ لینے کے علاوہ اقتصادی ترقیاتی اور حفاظتی امور پر مقامی عہدے داروں کے ساتھ تبادلہٴ خیال کریں گے۔