امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء میں دہشت گردوں کے حملوں کے مبیّنہ سرغنہ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں چلایا جائے گا۔
اُن حملوں کے چار اور ملزموں کے خلاف بھی نیویارک ہی میں مقدمے چلائے جائیں گے۔
ہولڈر نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وہ وکلائے استغاثہ کو ہدایت کریں گے کہ وہ سازش کے ہر ملزم کے لیے سزائے موت کی کوشش کریں۔
صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد پر انصاف کے سب سے سخت تقاضوں کا اطلاق ہوگا۔
خالد شیخ اور اُس کے شریک مدعا علیہم پر الزامات خلیج گوانتانامو کیوبا میں امریکی فوج کےاُس جیل کیمپ میں ایک فوجی کمیشن میں عائد کیے گئے تھے،جہاں ان ملزموں کو نظر بند رکھا گیا ہے۔
ہولڈر نے اعلان کیا ہے کہ گوانٹا نامو کے پانچ اور نظر بندوں پر ایک فوجی کمیشن میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ان ملزموں میں عبد الرحیم النّاشری بھی شامل ہے، جس پر 2000ء میں یمن کے ساحل کے قریب امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس کول پر حملے کا منصوبہ بنانے کا الزام ہے۔
مسٹر اوباما نے جنوری میں منصبِ صدارت سنبھالنے کے تھوڑے ہی عرصے بعدگوانتانامو کو ایک سال کے اندر اندر بند کردینے کے ایک صدارتی حکم پر دستخط کیے تھے۔لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا انتظامیہ مقررہ مدت میں یہ کام کرسکے گی۔

