عام طور پر ing   کے حروف کسی فعل کے آخر میں چسپاں کرنے  سےفعل جاری حالت میں تبدیل ہو جاتا ہے یعنی اس میں تواتر آ جاتا ہے۔ جیسے:

She was reading
She is reading
She will be reading

لیکن  اِنگ کا استعمال ہمیشہ ماضی ، حال یا مستقبل کو جاری بنانے کے لئے نہیں ہوتا۔    مثلاً خبر کی تیسری سطر دیکھئے:

Xinhua says the police first fired warning shots

مندرجہ بالا جملے میں اس کا استعمال adjective   کی صورت میں کیا گیا ہے۔  یعنی فعل warn   تھا ، جو وارنگ بن کر  صفت میں تبدیل ہو گیا ہے۔    اِنگ کا ایک استعمال یہ بھی ہے۔
Ing  ہی  کا ایک اور استعمال یہ ہے کہ یہ فعل کو اسم میں تبدیل کر دیتا ہے۔  ایسی صورت میں یہ gerund   کہلاتا ہے۔   جیرنڈ کو اردو میں اسمِ مصدر کہا جاتا ہے۔   جیرنڈ کے آخر میں ing  ہوتا ہے لیکن اس کا استعمال  فعل کے طور پر نہیں، اسم کے طور پر کیا جاتا ہے ۔    ان مثالوں میں فرق نوٹ کیجئے:
She is reading

The reading will take two hours

پہلی مثال میں اِنگ نے فعل کو جاری بنایا جبکہ دوسری مثال میں اِنگ نے فعل کو اسم بنا دیا۔   اسی کی مثال خبر کے پانچویں پیراگراف میں دیکھئے:

The shooting happened in the …

اس میں اِنگ کا استعمال   خبر کی پہلی مثال سےمختلف ہے۔   یہاں یہ اسم کے طور پر استعمال ہوا ہے۔   یعنی یہاں اس کا استعمال gerund کی شکل میں نظر آتا ہے۔

انگریزی خبر اوراس کا مکمل اردو ترجمہ  یہ ہے:


Chinese officials say police have shot and killed two Muslim Uighurs and injured another in renewed violence in northwestern Xinjiang province.

The state-run Xinhua news agency says police opened fire Monday to stop the three from attacking another Uighur with clubs and knives.

Xinhua says the police first fired warning shots.

The reports have not been independently confirmed.

The shooting happened in the provincial capital, Urumqi, a little more than a week after bloody clashes broke out there between Uighurs and members of China's ethnic Han majority.

چینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ میں از سرِ نو شرو ع ہونے والے تشدّد کے وقعات کے دوران دو ایغور مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک اور ایک تیسرے شخص کو زخمی کردیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی زن ہوا نے کہا ہے کہ پولیس نے پیر کے روز تین ایغور مسلمانوں کو ایک اور ایغور پر خنجروں اور ڈنڈوں سے حملہ کرتے دیکھ کر اُنہیں روکنے کے لیے گولی چلائى تھی۔

زِن ہوا کا کہنا ہے پولیس نے اس سے پہلے انتباہ کے طور پر بھی فائرنگ کی تھی۔ غیر جانب دار ذرائع سے اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سنکیانگ کے دارالحکومت اُرمچی میں پولیس کی جانب سے فائرنگ کا یہ واقعہ شمالی مغربی چین میں نسلی بنیاد پر خوں ریز ہنگاموں میں کم سے کم 184 لوگوں کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد پیش آیا۔