بچوں کو ٹائپ کرنا سکھائیں نہ کہ لکھنا، یہ تسلیم کریں کہ انسان عالمی تپش کو روکنے کی جنگ ہار چکاہے اورکرہ ارض کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے مریخ میں کالونیاں قائم کی جائیں۔  یہ ان تصورات میں سے صرف چند ہیں جو سائنس دانوں اور دانش وروں کے اس پینل نے پیش کیے جنہیں دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے مشورے دینے کے لیے کہا گیا تھا۔

ان کی  یہ  تجاویز اس کرہ ارض پر ماحولیاتی تباہی، صحت کی غیر مساویانہ نگہداشت اور مغربی دنیا کی خود غرضی پر مبنی مادہ پرستی  کی  بنا پر انسانیت  کی موجودہ حالت کی الم ناک تصویر پیش کرتی ہیں۔

تاہم  ان دانش وروں میں شامل ایک معروف سائنس دان چرڈ ڈوکنز، مصنفہ مارگریٹ اٹ وڈ اور ایک معروف کاروباری شخصیت سر رچرڈ برانسن  نے امید کی کچھ روشنی دکھائی ہے۔

نیوسائنٹسٹ میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق  پروفیسر ڈوکنز نے یہ بات زور دے کرکہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کوسائنس دانوں کی طرح سوچنا چاہیے جبکہ اٹ وڈ نے ماہی گیری کے ایک ایسے طریقوں  پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ہے جس سے سمندری حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔  جب کہ پینل میں شامل دوسرے بہت سے شرکاء نے مزید اعلیٰ سطح کی تجاویز دی ہیں۔

امریکہ میں قائم پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر آف ایسٹرو فزیکل سائنسز رچرڈ گاٹ کی تجویز ہے کہ ہمیں مریخ پر ایک خود انحصار کالونی قائم کرنی چاہیے۔  وہ کہتے ہیں کہ اس طرح ہم دو سیاروں پر رہنے والی مخلوق کا درجہ حاصل کرلیں گے اور ایک کی بجائے دو مواقع ملنے سے ہمارے لیے زیادہ عرصے تک بہتر طورپر زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے خلائی تحقیق کے ذریعے  زندگی کو محفوظ بنانے کے امکانات کا جو تصور پیش کیا ہے، اس پر ورجن گیلک ٹک کمپنی کے سررچرڈسن عمل پیرا ہوتے ہوئے عام مسافروں کو معاوضے کی ادائیگی پر خلا میں لے جانے کے لیے  پروازوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انہوں نے جریدے سائنٹسٹ کو بتایا کہ اگر ہم ایک تہذیب کے طورپر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں تجارتی بنیادوں پر خلائی سفر کی  کم خرچ ، ماحولیاتی اعتبار سے محفوظ سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی ۔

ماحولیاتی سائنس دانوں ویلس بروئیکر، جنہوں ن عالمی تپش کی اصطلاح پیش کی تھی اور جیمز لوولاک، جو اس نظریے کے بانی ہیں  کہ کرہ ارض ایک زندہ عضویے کی طرح عمل کرتا ہے، اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے اب صرف یہی کافی نہیں ہے کہ لوگوں  پر یہ زور دیا جائے کہ کاربن کی کھپت میں کمی کریں ۔

پروفیسر بروئیکر، فضا کو  کاربن ڈائی اکسائیڈ سے پاک کرنے کے طریقوں پر مزید تحقیق پر زور دیتے ہیں، جب کہ لوولاک کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک گرم تر کرے پر رہنے کی تیاریاں شروع کردینی چاہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بہترین اقدام یہ ہوگا کہ ہم عالمی تپش  کی رفتار کم کرنے یا اسے روکنے کے لیے جتنی کوششیں کررہے ہیں، کم ازکم اتنی ہی کوششیں ہمیں عالمی تپش سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے بھی کرنی چاہیں۔

بہت سے ماہرین ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم اور صحت کے معیار بہتر بنانے کے لیے تیزتر اقدامات پرزور دے رہے ہیں ۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کاسمالوجسٹ، میکس ٹیگ مارک کہتے ہیں کہ بچوں کو ایک ہائی ٹیک مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے نصاب میں نمایاں تبدیلیوں کی  ضرورت ہے۔  ان کا کہنا ہے بچوں کو ایک عالمی زبان سکھانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ٹائپنگ کی تربیت دی جائے۔

فری آن لائن انسائیکلوپیڈیا ، وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز کہتے ہیں کہ دنیا صرف اسی صورت میں رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے جب لوگ خود اپنے تعصبات کا مقابلہ  کرنا سیکھ لیں گے ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ ایک مہینے کے لیے اپنی دنیا سے نکل کرکتابوں اور ویب سائٹس کی دنیا میں رہیں۔   اس طرح ممکن ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ دنیا کے بارے میں آپ کے تصورات اور نظریات غلط تھے۔  اور اگر اس ایک ماہ کے دوران آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ آپ صحیح تھے تو یہ اور بھی اچھی بات ہوگی۔

امریکی کاروباری ادارے پے پال کے ایلون مسک نے بہتر دنیا کے بارے میں ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ ہم زندگی کے روشن پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھیں اور ہمیں جو نعمتیں میسر ہیں، ان پر خدا کاشکر ادا کریں ۔