شریک حیات کیسا ہونا چاہیے ؟ یہ فیصلہ خوشگوار احساسات رکھنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے چند مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔شادی چونکہ عمر بھر کا معاملہ ہے اس لیے  ہر معاشرے میں اس بارے میں فیصلہ کرتے وقت بہت سے پہلوؤں رکھ کر خوب سوچ بچار کی جاتی ہے۔
حال ہی میں اس حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی شادی  شدہ زندگی خوشگوار اور دیرپا ہوتو پھر آپ کو ایسی لڑکی کا انتخاب کرنا چاہیے جو آپ سے زیادہ پڑھی لکھی  اور سمجھدارہو  اوروہ   عمر میں آپ سے کم ازکم پانچ سال چھوٹی ہو۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے سائنس دانوں نے خوشگوار ازدوجی زندگی کا زار جاننے کےلیے  ایک ہزار سے زیادہ ایسے جوڑوں پر تحقیق کی  جو یاتو کم ازکم پانچ برس سے خوشگوار شادی شدہ زندگی گذار رہے تھے یا ان کے درمیان طویل عرصے سے قابل رشک دوستانہ تعلقات موجود تھے اور وہ اکٹھے رہ رہے  تھے۔
ان جوڑوں میں کبھی طلاق یاکسی بڑے اختلاف کی نوبت نہیں آئی تھی ۔ان سب جوڑوں کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ مرد لڑکی سے عمر میں کم ازکم پانچ سال بڑا تھا اور لڑکی کی تعلیمی قابلیت  اپنے جیون ساتھی سے زیادہ تھی اور وہ ذہانت کے لحاظ سے کئی معاملات میں اس سے بہتر تھی۔
اس تحقیق کے نتائج  یورپین جرنل آف آپریشنل ریسرچ میں شائع ہوئے ہیں ۔ نتائج کے مطابق مطالعے میں شامل  جوڑوں نے ایک دوسرے کا انتخاب کرتے وقت ، محبت، خوبصورتی، ایک جیسا مزاج، عقائد  ، رجحانات اور مشترک اقدار کو  یا تو اپنے پیش نظر رکھا تھا یا یہ پہلو غیر شعوری طورپر انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمر، تعلیم اور معاشرتی پس منظر جیسے عوامل جوڑوں کو ایک ساتھ رکھنے اور ان  میں علیحدگی کی شرح کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کامیاب ازدواجی زندگی کی  ایک مثال معروف پاپ سٹار بیانسے اور پاپ سٹار جے زی کی شادی ہے۔ بیانسے نولز کی عمر 28 سال ہے جب کہ جےزی ان سے 11 برس بڑے ہیں اور 39 سال کے ہیں۔بیانسے اپنے شوہر سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں جب کہ ان کے میاں  اپنی ہائی سکول کی تعلیم بھی مکمل نہیں کرسکے ۔
اسی طرح کی ایک اور مثال فلم اداکار اور پروڈیوسر مائیکل ڈگلس  کی ہے جن کی عمر اپنے بیوی سے نمایاں طورپر زیادہ ہے۔ ڈگلس 65 برس کے ہیں  جب کہ ٹی وی اور فلم سٹار کیتھرین زیٹا جونز 40 سال کی ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں ماضی میں طلاق ہوچکی ہے اور وہ ایسی کسی صورت حال سے بچنا چاہتے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف باتھ کےسائنس دان ڈاکٹر ایمانیوئل فریگنیئر کی نگرانی میں ہوئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایک بار طلاق  کے عمل سے گذرنے والے افراد اپنی آئندہ زندگی میں زیادہ  ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی دوسری شادی خوشگوار گذرتی ہے۔لیکن اگر میاں بیوی دونوں ہی طلاق یافتہ ہوں تو صورت حال خراب بھی ہوسکتی ہے۔
(یورپین جرنل آف آپریشنل ریسرچ سے ماخوذ)