اکتوبر 2007 ء میں اُس وقت ملک کے فوجی صدر پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے نام سے جو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا اس کے تحت لگ بھگ8 ہزار افراد کے خلاف مبینہ بدعنوانی، قتل اور دوسرے جرائم کے مقدمات کو ختم کیا گیا ہے۔
اس متنازع قانون سے مستفید ہونے والے افراد میں سر فہرست ملک کے صدر آصف علی زرداری، وزیر داخلہ رحمن ملک، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی، لندن میں سفیر واجد شمس الحسن اور پیپلز پارٹی کے دوسرے اہم رہنما شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم قائد الطاف حسین کے خلاف بھی 72 مقدمات ختم کیے گئے ہیں جب کہ پارٹی کے کئی مرکزی رہنما بھی اس قانون سے مستفید ہوئے ہیں۔
یہ تفصیلات وزیر مملکت برائے قانون وانصاف افضل سندھو نے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ایک پر ہجوم نیوز کانفرنس میں جاری کیں اور بتایا کہ یہ مقدمات مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا نے کے لیے قائم کیے گئے اور کل34سیاست دانوں نے این آر او سے فائد ہ اٹھایا ہے جب کہ ایک بڑی تعداد بیوروکریٹس کی ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ این آراو کے تحت مقدمات ختم کرنے سے مجموعی طور پر قومی خزانے کو کتنا نقصان ہوا ہے۔
وفاقی وزیر افضل سندھو کا کہنا ہے کہ این آر او 28 نومبرکے بعد اپنی افادیت کھو دے گا اور اس کے بعد اگر عدالتوں نے اس متنازع صدارتی حکم نامے کے تحت ختم کیے گئے مقدمات دوبارہ کھولے تو وہ جو بھی فیصلے سنائیں گی حکومت انھیں من وعن تسلیم کرے گی۔ لیکن انھوں نے کہا کہ جب تک آصف علی زرداری ملک کے صدر ہیں آئین کے تحت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ ان کا اصرار تھا کہ صدر زرداری پر قائم مقدمات میں جرم ثابت نہیں ہو سکا تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے دس سال جیل میں گزارے۔
سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کی فہرست سامنے آنے کے بعد صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومت پر سیاسی اور اخلاقی دباو میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول حکومت میں شامل افراد بشمول صدر پاکستان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر اپنے خلاف مقدمات کو عدالتوں میں جاکر سامنا کرنا چاہیئے۔ مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کی فہرست کے اجراء کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط اور صدر زرداری کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ لیکن غیر جانب دار مبصر ین کا کہنا ہے کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے ایسے افراد جو حکومت میں شامل ہیں ان کے مستقبل کے بارے میں وزیر اعظم کی حکمت عملی سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی رائے قائم کی جا سکے گی۔

