نیپال کے ماؤنوازوں نے مادھیو کمار کی حکومت کی برطرفی کے مطالبے پر اتوار کی شام سے ملک گیر تحریک شروع کردی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤنواز) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ تحریک کا آغاز دارالحکومت کاٹھمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مشعل بردار جلوسوں سے ہوا، اور اِس کا اختتام دس نومبر کو کاٹھمنڈو کی مکمل ناکہ بندی کے ساتھ ہوگا۔
پارٹی ترجمان کے بقول، اُس دِن نہ صرف تمام گاڑیوں کی آمد و رفت کو بند کرکے کاٹھمنڈو کا رابطہ سارے ملک سے توڑدیا جائے گا بلکہ پہلی بار انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی بند کردیا جائے گا۔
پیر کے دِن سے ہزاروں ماؤنواز باغی تمام سرکاری دفاتر کا محاصرہ شروع کردیں گے۔
مئی کے مہینے میں نیپال کے صدر یادیو نے ماؤنوازوں کے سربراہ اور ملک کے وزیرِ اعظم پشپ کمل دَہل پراچندا کے فوج کے سربراہ کے برطرف کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جِس سے آئینی بحران پیدا ہوگیا اور پراچندا کو مستعفی ہونا پڑا۔
اُس وقت سے ماؤنواز موجودہ وزیرِ اعظم مادھیو کمار کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں جِس کے باعث پارلیمنٹ میں سالِ رواں کا بجٹ بھی منظور نہیں ہو سکا۔
سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ماؤنوازوں کے ساتھ نیپالی کانگریس اور حکمراں جماعت کے لیڈروں نے مذاکرات کے کئی دور بھی کیے تاہم، اُن کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا اور اب ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے پشپ کمل پراچندا نے زبردست تحریک شروع کردی ہے۔ اُنھوں نے خود کاٹھمنڈو کے رتنا پارک سے نکالے گئے مشعلوں کے جلوس کی قیادت کی۔

