انٹرنیٹ صارفین پر کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق ، صارفین بہت سا وقت فیس بک ، مائی سپیس  اور ٹوٹر جیسی  نیٹ ورکنگ  کی ویب سائٹس پر گزارتے ہیں ۔ اور اس رحجان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کاروباری نقطہ نظر سے یہ رحجان  وقت اور پیسے کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بعض افراد کا کہنا ہے کہ مگر سب لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
امریکہ میں 77 فیصد  ملازمت پیشہ افراد کام کے اوقات میں  فیس بک کا استعمال کرتے ہیں ۔اور اپنے فیس بک اکا ؤنٹ کو کام کے اوقات میں بھی چیک کرتے ہیں۔
برطانیہ میں کیے گئے ایک سروے میں 57 فیصد ملازمین کے پاس  سوشل نیٹ ورکنگ کے اکاؤنٹ پائے گئے جن پر  روزانہ کام کے اوقات میں سے 40 منٹ صرف کیے جاتے ہیں۔ فلپ وکس  لندن کی ایک ٹیکنالوجی ریسرچ  کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ   یہ ایک ایسی چیز نہیں جو اپ اپنے کھانے کے اوقات میں کر سکیں۔، اس کے لیے مختلف اوقات میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ اور  لوگ اپنے کام پر توجہ نہیں دے پاتے۔
وک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ، کام کے اوقات میں سوشل نیٹ ورکنگ ، کاروباروں کو تقریبا 2.25 ارب ڈالر  کا نقصان پہنچاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے  کہ اس طرح کی سائٹس کے صارفین میں اضافے سے اس طرح کا  نقصان بڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔ لیکن ولیم بیئر  کا کہنا ہے   اس ٹیکنالوجی سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ   بجائے اس کے ، کہ ہم اس کا استعمال ترک کرنے کا سوچیں ، ہمیں چائیے کہ ملازمین کو اس کے بارے میں بتائیں کہ ان ویب سائٹس سے کیا خطرات ہیں اور ہم ان سے کیا فائدے اٹھا سکتے ہیں۔
کچھ کارکنوں  کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔آپ ان کے ذریعے بہتر کارکن بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
اور کچھ کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ دفتری اوقات میں نہیں ہونی  چائیے ۔دومین کہتے ہیں کہ اگر آپ ان سائٹس  پر وقت لگانا چاہتے ہیں تو شام  کے وقت  اور چھٹی کے دن ایسا  کریں۔ دفتری اوقات میں یہ نہیں ہونا چاہیے۔
جائزوں کے مطابق ان سماجی تعلقات کی ویب سائٹس کے استعمال میں گزشتہ سال کی نسبت 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی مالکان اس پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروےمیں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 54 فیصد امریکی کمپنیوں نے دفتری اوقات میں سوشل نیٹ ورکینگ اور بلاگنگ کی سائٹس پر پابندی لگا دی ہے۔