دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد حامد کرزئی نے آج اپنے خطاب میں کہا  ہے کہ ان کی حکومت پورے افغان معاشرے کی عکاسی کرتی ہےاور یہ صرف ان کی ہی  نہیں بلکہ سارے افغان عوام کی کامیابی ہے۔   گذشتہ روز صدر براک اوباما نے فون کرکے  حامد کرزئی کو مبارک باد دیتے ہوئے  اس بات پر زور دیا کہ وہ  افغانستان میں کرپشن کے خاتمے اور تعمیر ِ نو پر اپنی توجہ مرکوز کرکے ایک نئے دور کا آغاز کریں۔  کئی  امریکی ماہرین کے مطابق اس نئی پیش رفت کے بعد صدر اوباما کے لیے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے  کا فیصلہ مزید دشوار ہوگیا ہے۔  واشنگٹن کے ماہرین  آنے والے وقت میں  افغانستان میں امریکی حکمتِ عملی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
20 اگست کو ہونے والے ا نتخاب کے نتیجے میں صدر حامد کرزائی کے قریب ترین حریف ڈاکٹر عبدالله عبدالله کی طرف سے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کے بعد صدر حامد کرزئی کو فاتح قرار دے دیا گیا۔  واشنگٹن میں موجود بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان انتخابات میں دھاندلی اور غیر مستحکم سیاسی صورتِ حال نے عالمی سطح پر نا امیدی تو قائم کی تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے منہ موڑ لیں۔
  لیزا کرٹس کا تعلق کنزرویٹو تھنک ٹینک ہیرٹیج فاونڈیشن سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں امریکہ کو اب یہ کرنا چاہیے کہ دباؤیا نرمی سے،  کسی بھی طرح صدر کرزئی کو آمادہ کریں کہ ان کی انتظامیہ بہتر کام کرے۔  جس کا مطلب ہے کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ اس کے لیے سنجیدہ ہیں،  اور باصلاحیت ٹیکنو کریٹک شخصیات  کو کابینہ میں شامل کریں جو امریکہ اور نیٹو کے ساتھ کام کر سکیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ عبدلالله عبدالله مستقبل میں اپوزیشن یا اتحادی میں سے جو بھی  کردار اپنائیں، اہم بات یہ ہے کہ وہ اور صدر کرزئی دونوں طالبان کے خلاف ہیں اور افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی موجودگی کے حامی ہیں۔ 
لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ صدر اوباما کو  افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ جلد کر لینا چاہیے کیونکہ تاخیر کی وجہ سے خطے میں موجود امریکی اتحادی غیر یقینی  کا شکار ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ صدر اوباما یہ فیصلہ کریں کہ انہیں افغانستان کو مستحکم کرنا ہے اور وہاں موجود امریکی کمانڈرز کو وہ مدد مہیا کریں جو انہیں ضرورت ہے تاکہ طالبان وہاں دوبارہ مضبوط نہ ہو سکیں،  میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کو صحیح اندازہ لگانے  اور طالبان کے خلاف لڑنے کا ارادہ مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔
 مگر کچھ ماہرین اور سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی طرف سے مزید فوجی امریکہ بھیجنے کے فیصلے سے پہلے تمام پہلوں پر غور کرنا اور اپنے مشیروں کی رائے لینا ایک دانشمندانہ  فیصلہ ہے۔ 
جان وارنر ریپبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے سابق سینیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں احتیاط کے ساتھ  درست فیصلہ کرنے کے لیے وقت لینے پر صدر اوباما کی قدر کرتا ہوں۔   کیونکہ اس کا افغانستان سے براہِ راست تعلق ہے۔ ان کے پاس با صلاحیت مشیر ہیں اور وہ اس صورتِ حال پر بہت محنت کر رہے ہیں۔  اور اس کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
ماہرین یہ کہتے ہیں کہ اب جب افغانستان میں سیاسی صورتِ حال واضح ہو گئی ہے۔  صدر اوباما کو اس موقع پر تاخیر کیے بغیر افغانستان کےلیے اپنی حکمتِ عملی کا اعلان کر دینا چاہیے۔
کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر اوباما فیصلےمیں   اس لیے  تاخیر کر رہے ہیں تاکہ  امریکی عوام  کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ فیصلہ کتنا اہم ہے اور کے نتائج کیا ہوں گے۔