اگرچہ صدر اوباما کے چین کے حالیہ دورے میں بہت بڑے ہجوم دیکھنے میں نہیں آئے اور امریکہ میں اس دورے پر تنقید ہو رہی ہے پھر بھی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بہت سے امور میں خاص طور سے آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

صدر اوباما کے  دورہ چین کے ناقدین کی توجہ اس بات پر ہے کہ چینی حکومت نے ان کے دورہ کو پوری طرح کنٹرول کیا اور چینی عوام کے ساتھ ان کے براہِ راست رابطے کو محدود کر دیا۔

چین نے شنگھائی میں یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ صدر اوباما کی ٹاؤن ہال میٹنگ کو  ملک بھر میں ٹیلیویژن پر نشر کرنے کی درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا۔  اس کے علاوہ، مسٹر اوباما اور چینی صدر ہُو جن تاؤ نے اپنی میٹنگ کے بعد رپورٹروں کو اپنے بیانات پڑھ کر سنائے لیکن سوالات کے جواب نہیں دیے۔

چین کے نائب وزیرِ خارجہ He Yafei نے بتایا کہ دونوں حکومتیں صدر اوباما کے دورے کے ایجنڈے پر متفق تھیں۔  اُن کے مطابق چین یہ نہیں کر سکتا کہ صدر اوباما کے چین کے دورے کا موازنہ صدر کلنٹن اور صدر بُش کے دوروں سے کرے یا یہ بتائے کہ ان میں سے کون چینی عوام کے زیادہ قریب تھا۔

صدر اوباما کے ایک سینیئر مشیرڈیوڈ ایکسلراڈ David Axelrod)) کہتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کی نظر میں یہ دورہ کامیاب رہا۔  انھوں نے توجہ دلائی کہ اگرچہ شنگھائی کی ٹاؤن ہال میٹنگ چینی ٹی وی پر براہ راست نشر نہیں کی گئی لیکن وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر اسے براہ راست لائیوسٹریم کیا گیا یعنی براہ راست اور مسلسل دکھایا جاتا رہا۔اس کے علاوہ مسٹر اوباما نے حساس موضوعات پر، مثلاً انسانی حقوق کے مسئلے پر عوام کے سامنے اظہارِ خیال کیا۔

مسٹر ایکسلراڈ (Axelrod) کا کہنا ہے کہ ’’یہ چیزیں راتوں رات تبدیل نہیں ہوتیں۔  لیکن  صدر نے بہت سے معاملات میں جو ہماری اقدار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں چینی عوام کے سامنے پُر زور الفاظ میں اظہارِ خیال کیا اور میرے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کا اثر ہو گا‘‘۔

مسٹر ہُو کے ساتھ میٹنگ کے بعد جو طویل مشترکہ بیان جاری کیا گیا اس میں بہت سے امور کا احاطہ کیا گیا۔  اس میں اقتصادی تعاون علاقائی امور جیسے شمالی کوریا اور جنوبی ایشیا، اور ایران اور نیوکلیئر اسلحہ کے پھیلاؤ جیسے عالمی مسائل شامل تھے۔

ماحولیات کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ  اس بیان میں آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے پر خاص طور سے حوصلہ افزا خبر موجود تھی۔  Yang Fuqiang بیجنگ میں ماحولیاتی گروپ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر ہیں۔  دنیا کی آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ان کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ان کی توقع سے کہیں زیادہ ہیں۔  مثلا ایک آئٹم جس پر چین نے امریکہ کے ساتھ مِل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے وہ carbon capture and sequestration  کی ٹکنالوجی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ زمین سے نکلنے والے ایندھن کے جلانے سے جو گیسیں نکلتی ہیں انہیں ماحول میں شامل نہ ہونے دیا جائے بلکہ انہیں اخراج کے وقت پکڑ لیا جائے اور محفوظ کر لیا جائے تا کہ وہ ماحول کو آلودہ نہ کر سکیں۔ 

بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس قسم کی گرین ہاؤس گیسوں سے کرۂ ارض کی حدت میں اضافہ ہوتا ہے۔  اس قسم کی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور درجۂ حرارت میں اضافے پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ Yang نےکم آلودگی والی توانائی کی تلاش اور بجلی سے چلنے والی کاروں کی تیاری کی مشترکہ کوششوں کی بھی تعریف کی۔ 

یونیورسٹی آف Oregon میں سیاسیات کے پروفیسر اور چین کے ماہر رچرڈ پی سٹمیئر ((Richard P. Suttmeier کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان میں بعض اہم نکات شامل ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ اس مشترکہ اعلان پر غور کریں اور اہم مسائل کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں، مثلاً آب و ہوا میں تبدیلی اور توانائی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال تو میرے خیال میں آپ بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ ان شعبوں میں تو بہت اہم کام ہو رہا ہے‘‘۔

پروفیسر سٹمیئر ((Sutimeier کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے دو سب سے بڑے گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے ملک سنجیدگی سے آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے معاملے میں امریکہ اور چین کے موقف کو دنیا بھر میں بڑے غور سے دیکھا جا رہا ہے۔  ڈبلیو ڈبلیو ایف کے Yang  کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ اگلے مہینے آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں Copenhagen میں جو کانفرنس ہونے والی ہے اس تازہ ترین دو طرفہ بیان سے اس میں مزید پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہو گی۔