چین اور امریکہ کے سربراہان کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی دو طرفہ ملاقات کے اختتام پر کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا البتہ دونوں ملکوں کے قائدین نے تعاون کا عزم کیا ہے۔

منگل کو صدر براک اوباما نے اپنے چینی ہم منصب ہو جن تاؤ کے ساتھ کئی گھنٹوں تک بات چیت کی جس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ عالمی معیشت، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت تقریباََ ہر موضوع زیر بحث آیا۔  انھوں نے کہا کہ بات چیت میں تمام امور پر پیش رفت ہوئی ہے اور مشترکہ چیلنجزسے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ اس وقت دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔  ” یہی وجہ ہے کہ امریکہ دنیا کے سٹیج پر ایک عظیم کردار ادا کرنے کی چین کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے، ایک ایسا کردار جس میں ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت (چین) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں بھی شامل ہوں“۔  انھوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی بحران کو ختم کرنے کی کوششوں میں چین کا تعاون کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔  صدر اوباما نے اس حوالے سے چین کی کرنسی کی قدر پر تنازعے کا ذکر کیا اور دنیا میں ایک متوازن معاشی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔

چینی صدر نے اپنے بیان میں کرنسی کے تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا لیکن انھوں نے ان امور کا ذکر کیا جن پر دونوں رہنماوں نے اتفاق کیا۔  انھوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں جن میں خاص طور پر صاف توانائی کو فروغ دینے کا شعبہ ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کی سرگرم شمولیت کے بغیر دنیا کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔  انھوں نے شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ مل کر ان ملکوں کے جوہری عزائم سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چین نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اوربات چیت سے پہلے ایسے اشارے مل رہے تھے کہ صدر اوباما ملاقات میں تہران پر دباؤ بڑھانے کے حوالے سے چین سے مدد کرنے کوکہیں گے۔  امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے پر امن ارادوں کی یقین دہانی کرائے ورنہ دوسری صورت میں اسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

صدر اوباما نے چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اختلافات کی صورت میں وہ چینی رہنماؤں سے اس کا برملا اظہار کریں گے۔  انھوں نے بالعموم اور تبت میں بالخصوص انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں بھی بات کی۔ ”ہم تبت کو عوامی جمہوریہ چین کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن اختلافات ختم کرنے کے لیے چینی حکومت اور دلائی لاما کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امریکہ حمایت کرتا ہے“۔