حکومت اس دورے کو گھانا کے لیے ایک مستحکم جمہوریت اور سیاحت کے لیے پُر کشش ملک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ سیاحت کے نائب وزیر Kobi Achampong. کا کہنا ہےکہ ’’اِس دورے سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ گھانا ایسا ملک ہے جہاں لوگوں کو جانا چاہیئے۔ لوگ یہاں آکر یہ دیکھنا چاہیں گے کہ صدر اوباما گھانا کیوں آئے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گھانا میں اس دورے کو کامیاب بنانے کے لیے سب کچھ موجود ہے۔ اس دورے سے گھانا کو بھی اپنا جائز مقام مِل جائے گا‘‘۔
دارالحکومت عکرہ سے150 کلو میٹر دورAda میں رہنے والی ریٹائرڈ خاتون Philomena Dadzie (DAHD-zee) کو امید ہے کہ اِس دورے سے گھانا کے بہت سے لوگوں کی رو ز مرہ زندگی تبدیل ہو جائے گی’’یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ کے صدر گھانا آ رہے ہیں۔ اوباما کی آمد سے ہمارے ملک پر اچھا اثر پڑے گا اور ان نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جو بے روزگار ہیں‘‘۔
ماہی گیر Filemon Atitsogbe کو امید ہے کہ گھانا کی جمہوریت امریکہ کی مثال سے بہت سی اچھی باتیں سیکھ سکتی ہے’’جمہوریت کی ابتدا امریکہ سے ہوئی اور جب اوباما گھانا آئیں گے تو وہ اپنے تجربات میں گھانا کے لوگوں کو شریک کریں گے‘‘۔
اُدھرعکرہ میں صدر اوباما کے استقبال کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ کچھ لوگوں نے اپنی دوکانوں کے نام تبدیل کر دیے ہیں ۔ شاہراہوں پر ہزاروں پوسٹر لگے ہوئے ہیں کچھ پوسٹر تو حکومت نے لگائے ہیں لیکن سب سے زیادہ اشتہارفرینڈز آف اوباما ’’گھانا‘‘ گروپ نے لگائے۔
اس گروپ کی منتظم اعلیٰ نینسی سام کہتی ہیں کہ سب لوگ اتنی زیادہ محنت اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ اوباما پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہیں’’چونکہ وہ افریقہ سے ہیں اس لیے وہ نصف افریقی ہیں۔ ہمیں یہ دکھانا چاہیئے کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہیئے کیوں کہ وہ ہم میں سے ہی ہیں‘‘۔
فرینڈز آف اوباما ’’گھانا‘‘ نے صدر اوباما کے دورے سے پہلے بہت سے جلوسوں کا اہتمام کیا ہے۔ ہزاروں لوگ ان جلوسوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان میں Adwoa Frimpomaa بھی شامل ہیں جو پانچ گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد یہاں پہنچی ہیں ’’وہ میرے صلاح کار ہیں میرے روحانی باپ ہیں میرے سب کچھ ہیں۔ میں ان سے پیار کرتی ہوں اور ان سے پیار کرتی رہوں گی‘‘۔
جمعے کے روز جب صدر اوباما گھانا پہنچیں گے توتوقع ہے کہ ہزاروں لوگ ان کا والہانہ استقبال کرنے کے لیے ایئر پورٹ پر موجو د ہوں گے۔


